وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ بدھ کونیشنل یوتھ سمٹ کوئٹہ سے خطاب میں میر سرفراز بگٹی کہا کہ بلوچستان حکومت نے پہلی مرتبہ صوبے کی جامع یوتھ پالیسی تیار کی ہے تاکہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان قوم کا مستقبل ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت بلوچستان نوجوانوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولنے، روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام شروع کر چکی ہے تاکہ وہ ملکی اور عالمی سطح پر مقابلہ کرسکیں۔
دنیا سکلز کی طرف جا رہی ہے، اس لیے ہمیں بھی اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں آج یہاں تقریر کرنے نہیں بلکہ نوجوانوں کو سننے آیا ہوں اور ان کے تمام سخت سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میں نے حلف اٹھاتے ہی نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ نوکریاں فروخت نہیں ہونے دوں گا اور اس وعدے پر آج بھی قائم ہوں۔
محکمہ تعلیم میں میرٹ پر تعیناتیاں کی گئی ہیں اور1800غیر حاضر اساتذہ کو نوکری سے برطرف کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت اور تعلیم میں کنٹریکٹ بنیاد پر بھرتیاں کی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کسی پروگرام کی تشہیر کے بجٹ کو سکول بنانے پر خرچ کرتی ہے کیونکہ اصل ترقی تعلیم سے ممکن ہے۔ مختلف محکموں میں سیاسی بنیادوں پر ہونے والی تعیناتیوں کا سلسلہ ختم کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین پر صوبے کا اسی فیصد بجٹ خرچ ہو رہا ہے جو ایک بڑا بوجھ ہے۔ وزیراعلیٰ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محنت اور دیانتداری کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ حکومت صرف مواقع فراہم کر سکتی ہے، کامیابی کے لیے جدوجہد خود کرنی ہوتی ہے۔









