ؒبلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کا عطائیت کے خاتمے اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کارروائیاں تیز، 41 مراکز صحت سیل

9

بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے سی ای او ڈاکٹر نور قاضی اور ڈاکٹر لبنیٰ خلیل نے کہا ہے کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے میں صحت کے محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور عطائیت کے خاتمے کیلئے خود مختار ریگولیٹری ادارے کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دے رہا ہے۔ یہ بات انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

اس موقع پر ڈاکٹر محبوب قمبرانی، ڈاکٹر ماریہ شاہ، ارباب ثناء اللہ منظور حسین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی مراکز صحت 1725، سرکاری 781 اور پرائیویٹ 945، پرویژنل لائسنس حاصل کردہ مراکز صحت سرکاری 3 اور پرائیویٹ 14،مراکز صحت جن کو جرمانہ کیا گیا 178، اور 83 کو نوٹس جاری کردیئے گئے ۔

اس کے علاوہ 41 مراکز صحت کو سیل کردیا گیا ہے۔

32 شکایات میں سے 15 کا ازالہ کیا گیا ہی17 شکایات پر کارروائی جاری ہے۔بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کا قیام بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019ء کے تحت عمل میں آیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد کمیشن کی تنظیمی تشکیل، بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دیگر انتظامی ڈھانچے کی تکمیل مرحلہ وار کی گئی اور کمیشن نے باقاعدہ طور ر 2025ء میں اپنی ریگولیٹری ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کیں۔

بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے میں صحت کے محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کو بنانے اور عطائیت کے خاتمے کے لئے ایک خود مختار ریگولیٹری ادارے کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میں قائم تمام سرکاری و غیر سرکاری ، خود مختار و نیم خود مختار ، ٹرسٹ و دیگر مراکز صحت جن میں ہسپتال، کلینکس، لیبارٹری، زچہ و بچہ مراکز اور ہومیوپیتھک ، طب یونانی مراکز صحت شامل ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کمیشن کے مقررہ قوانین کے مطابق جلد از جلد اپنی رجسٹریشن اور لائسنسنگ مکمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن میں شکایات کے ازالے کے لئے ایک پورا ڈائریکٹر موجود ہے جس میں مریض اس کے لواحقین اور مراکز صحت میں کام کرنے والا طبی عملہ بھی اپنی شکایات درج کرواسکتے ہیں۔ ادارہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ ، محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو غیر معیاری اور غیر محفوظ طبی خدمات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ لوگ علاج کیلئے صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ طبی اداروں اور مستند طبی ماہرین سے رجوع کریں۔ غیر قانونی طبی سرگرمیوں کی نشاندہی ہو تو بروقت اطلاع دی جائے تاکہ فوری کارروائی کی جاسکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں