بلوچستان اسمبلی نے سرداری نظام کے خاتمے کی قرارداد پہلے سے موجود قانون اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نمٹا دی

31

بلوچستان اسمبلی نے میر غلام قادر بگٹی اسکول آف ایکسیلینس نارتھ ڈیرہ بگٹی اور ایوب بلیدی ماڈل سیکنڈری اسکول بلیدہ کیچ کے مسودہ قوانین منظور کرلیے،

جبکہ صوبے میں سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد پہلے سے موجود قانون اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نمٹا دی گئی۔

اجلاس میں قومی شاہراہوں پر حادثات کے متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے نظام، این ایف سی ایوارڈ، سڑکوں کی تعمیر اور پنجگور کو گرم علاقوں کی فہرست میں شامل کرنے سمیت مختلف امور پر بحث ۔پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ عبدالوحید کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ویمن ڈویلپمنٹ کے دفاتر کھولنے کے لیے فنڈز دستیاب نہیں، جبکہ نئے صوبے بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں دے رہی اور صوبے کے حصے سے کٹوتی کی جا رہی ہے، جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے پر صوبے کے نمائندے متحد نہ ہوئے تو مستقبل میں تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہر ماہ اسلام آباد جانا پڑے گا۔قومی شاہراہوں پر حادثات کے متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے نظام سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس مولانا ہدایت الرحمان نے پیش کیا۔

وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ایوان کو بتایا کہ صوبے کی آٹھ شاہراہوں پر 39 ایمرجنسی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں 900 تربیت یافتہ اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بعدازاں توجہ دلاؤ نوٹس نمٹا دیا گیا۔رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے ضلع پنجگور کو سرد علاقوں کی فہرست سے نکال کر گرم علاقوں کی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، جسے وزیراعلیٰ کی یقین دہانی پر نمٹا دیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے میر غلام قادر بگٹی اسکول آف ایکسیلینس نارتھ ڈیرہ بگٹی کا مسودہ قانون پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ایوب بلیدی ماڈل سیکنڈری اسکول بلیدہ کیچ کا مسودہ قانون پیش کیا، جسے بھی اسمبلی نے منظور کرلیا۔بلوچستان سے سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد مولانا ہدایت الرحمان نے پیش کرنا تھی، تاہم اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ سرداری نظام کے خاتمے کے حوالے سے 1976 میں پہلے ہی قانون موجود ہے اور اس معاملے پر بلوچستان ہائی کورٹ کے تین آئینی درخواستوں میں فیصلے بھی موجود ہیں۔ اسپیکر نے اسی بنیاد پر قرارداد نمٹا دی۔رکن اسمبلی زابد ریکی نے ضلع ماشکیل میں سڑکوں کی تعمیر سے متعلق قرارداد پیش کی،

جسے اسمبلی نے منظور کرلیا۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی بلوچستان میں کام نہیں کر رہی اور اس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی صوبے نہیں آتے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بھی بلوچستان میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اس ادارے کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اچھا نہیں رہا اور ان کے اپنے علاقے میں تعمیر ہونے والی سڑک کی حالت خراب ہوگئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کو اس توقع پر منصوبے دیے جاتے ہیں کہ وہ معیاری کام کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ادارہ منصوبے حاصل کرنے کے بعد پیٹی ٹھیکیداروں کو دے دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ قوم پرستی کی بات کرنے والے بعض عناصر پل گرا رہے ہیں اور سڑکیں تباہ کر رہے ہیں،

جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔اجلاس میں رکن اسمبلی اصغر علی ترین نے پشین میں بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے سے متعلق قرارداد بھی پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا ۔بعدازاں اسمبلی کا اجلاس 10نومبر تک ملتوی کردیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں