پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں رمضان میں وزیر اعلیٰ راشن پیکج میں اربوں روپے کی بدعنوانی ،خرد برد ، اقرباء پروری کے سنگین الزامات کے سامنے آنے کے باوجود حکومت وقت کا اس پر مکمل خاموشی عوام کے لیے سوالیہ نشان بن چکاہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اب بھی پڑے سینکڑوں راشن کو ضائع کیا جارہا ہے لیکن مستحق غریب عوام میں تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جارہا ۔
جبکہ پیکج کا مقصد رمضان کے مقدس مہینے میں غریب ، مستحق خاندانوں کو راشن کو شفافیت کے ساتھ تقسیم کرنا تھا لیکن جس طرح بے ضابطگیاں ، نااہلی ، جانبداری منظر عام پر آئی اس پر کمشنر کوئٹہ کی مجرمانہ خاموشی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ مستحق خاندانوں تک پیکج کی فراہمی میں ناکام جبکہ با اثر شخصیات و اراکین اسمبلی اور سفارشی حضرات میں ہزاروں پیکج کی فراہمی میں کامیاب رہی جس سے عوام کا ضلعی انتظامیہ پر اعتماد سخت مجروح ہوا ہے اورضلعی انتظامیہ کا یہ عمل مستحق اور غریب طبقات کے ساتھ کھلی ناانصافی کے سوا کچھ نہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی مسلسل خاموشی اس تاثر کو تقویت دے رہی ہے کہ یا تو وہ اس کرپشن میں ملوث عناصر کو تحفظ دے رہی ہے یا پھر اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اربوں روپے کا راشن خریدنا اور پھر اسے اپنے کرپشن کے لیے استعمال کرنا یہ عمل نہ صرف بدعنوانی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیںاور ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مستحق افراد تک راشن کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ خاموشی اور غفلت عوامی غصے کو مزید بھڑکائے گی اور نظام پر اعتماد کو مکمل طور پر ختم کر دے گی









