سامان سے بھرے ٹرک جلانے کے مسلسل واقعات، بلوچستان میں ٹرانسپورٹ بند، سپلائی چین بحران کا خدشہ

1

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو سندھ، پنجاب اور ہمسائیہ ملک ایران سے ملانے والی کئی شاہراہوں پر ان دنوں معمول سے کم ٹریفک نظر آتی ہے جہاں کبھی دن رات مال بردار گاڑیوں کی آمدروفت جاری رہتی تھی اب وہاں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال چھائی ہوئی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سامان سے بھری مال بردار گاڑیوں کو جلانے، ڈرائیوروں کے اغوا اور قتل کے مسلسل واقعات کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں جبکہ بیشتر تاجروں نے سامان کی سپلائی روک دی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف عام سپلائی چین بلکہ ہمسائیہ ملک کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہیں۔
بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے صدر نور احمد شاہوانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ صوبے کی بیشتر اہم شاہراہیں خاص طور پر کوئٹہ کو مستونگ، نوشکی، چاغی کے ذریعے ایران سے ملانے والی این-40 اس وقت غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مستونگ، نوشکی، چاغی، پنجگور، خاران، موسیٰ خیل، زیارت اور دیگر علاقوں میں کم از کم 35 ٹرک اور مال بردار گاڑیاں جلائی گئی جن سے ٹرانسپورٹرز کو 70 سے 80 کروڑ روپے تک کا نقصان ہوا ہے جبکہ گاڑیوں میں موجود سامان اس کے علاوہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں ایسے حملے زیادہ تر معدنیات لے جانے والی گاڑیوں تک محدود تھے مگر اب چاول، تازہ پھل اور دیگر روزمرہ اشیا لے جانے والے ٹرک بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان واقعات کی ذمہ داری اب تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی جبکہ ٹرانسپورٹرز کو یہ بھی معلوم نہیں کہ حملوں کے پیچھے کون ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں