وفاقی حکومت بجٹ میں صوبوں کا حصہ دینے کو تیار نہیں، صوبائی بجٹ اتحادیوں کی مشاورت سے بنائیں گے، پیپلز پارٹی

2

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر صوبائی وزیر وپارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ حکومت کی اپنے اتحادیوں کے ہمراہ صوبے میں امن کی بحالی اور بجٹ میں محدود وسائل میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل کے حل کو یقینی بناتے ہوئے تعلیم، صحت، کمیونیکیشن اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ترجیحات میں رکھا ہے اس لئے وزیر اعلیٰ بلوچستان بہت جلد حکومت میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے متفقہ طور پر ان کی تجاویز کی روشنی میں بجٹ تیار کریں گے کیونکہ اس بجٹ میں وفاقی حکومت صوبوں کو کچھ حصہ بھی دینے کو تیار نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”آن لائن“سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم ہے اور مخلوط حکومت میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ تمام اتحادیوں کو ساتھ لیکر باہمی مشاورت سے ان کی تجاویز کی روشنی میں لوگوں کے بنیادی مسائل تعلیم، صحت، کمیونیکیشن، ایریگیشن، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور بلوچستان کے طول و ارض میں پھیلی ہوئی آبادی کو معاشی طور پر ترقی دیکر خوشحالی کی جانب گامزن کرنا ہے بجٹ میں مخلوط حکومت کی کوشش ہے۔

کہ اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے برابری کی بنیاد پر انہیں ان کا حصہ دیا جائے کیونکہ اس وقت وفاقی حکومت صوبوں کو کچھ بھی دینے کے لئے تیار نہیں ہم نے اپنے محدود وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان کی پسماندگی عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے قابل استعمال بنانا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حالت جنگ میں ہے اور ہمیں لوگوں کی تکالیف کا اندازہ ہے اور حکومت دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ترقیاتی عمل کو بہتر اور شفاف بنانے کے لئے کام کررہی ہے ۔

تاکہ لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہوں انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے اتحادیوں کی تجاویز کی روشنی میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کو ترجیح دینی ہے تاکہ بلوچستان ترقی کرسکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر تقریباً 9 ارب روپے کی لاگت سے لیور ٹرانسپلانٹ کا جدید ہسپتال تعمیر ہورہا ہے بڑا منصوبہ ہے صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچارہی ہے اور عوام سے کئے گئے وعدے کو ہر صورت میں پورا کریں گے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے بلوچستان میں لگنے والی آگ کے خاتمے کو یقینی بناکر صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے اپنے دور اقتدار میں عملی کاموں کی بجائے سیاست کی ہے لیکن ہم سیاست کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے جامع منصوبہ بندی کے ذریعے 62 ارب روپے کی لاگت سے نصیر آباد ڈویژن میں نہری نظام کی پختگی، الائمنٹ اور بہتری کیلئے کام کیا ہے تاکہ پٹ فیڈر کینال میں 3 ہزار کیوسک پانی کو لوگوں تک ضائع ہوئے بغیر پہنچایا جاسکے۔ اس کے علاوہ ربیع کینال پر بھی کام جاری ہے اور کیرتھر کینال کی بھل صفائی بھی مکمل کی ہے اور 3 نئی نہروں کی بہتری پر کام جاری ہے یہ میرا حلقہ انتخاب ہے اور میری کوشش ہے کہ ان منصوبوں کو مقررہ مدت تک پورا کیا جاسکے اس کے علاوہ صوبے میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 200 سے زائد ڈیمز پر کام جاری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کوشش کررہے ہیں کہ اتحادیوں کے ساتھ ملکر تمام کاموں کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات عوام تک پہنچائے جاسکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں