29

کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک ایک کلومیٹر سٹر ک،30کروڑ 86لاکھ روپے میں پڑی

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک بلیک ٹاپ سڑک منصوبے کے خلاف جاری بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے محکمہ مواصلات و تعمیرات بلوچستان نے تفصیلی وضاحت جاری کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ منصوبہ حکومت بلوچستان کے تحت محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے ای اینڈ ایم ورکشاپ ڈویژن کوئٹہ نے مکمل طور پر اپنے محکمانہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچایا، جس میں شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت 1.02 کلومیٹر طویل اہم شاہراہ کی تعمیر و بحالی کی گئی،، تاہم منصوبہ انتہائی شفاف انداز میں 30 کروڑ 86 لاکھ 40 ہزار روپے میں مکمل کیا گیا،

جس سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 97 لاکھ 30 ہزار روپے کی نمایاں بچت ہوئی۔

یہ رقم صرف اور صرف سڑک کی تعمیر پر خرچ نہیں کئے گئے بلکہ اس پروجیکٹ میں دیگر رقم یوٹیلٹیز کیسکو، ایس ایس جی سی، تنصیبات کی منتقلی ریلوے اراضی کے معاوضے کی مد میں ادائیگی بھی کی گئی۔

منصوبے میں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سڑک کی بلیک ٹاپ، دو پل (برجز)ایک پشین اسٹاپ نالہ اور دوسرا چمن پھاٹک نالہ پر تعمیر اور پشین اسٹاپ کے نالہ کے ساتھ حفاظتی ار سی سی دیوار کی تعمیر اور پشین اسٹاپ کو روڈ سے ملانے کے لئے لینک روڈ کی تعمیر،ار سی سی ڈرین جس کے اوپر فٹ پاتھ کی تعمیر،ماڈل ٹان کے رہائشیوں کے لیے 30انچ قطر کی ار سی سی پائپ کا سیوریج سسٹم کی تعمیر،چمن پھاٹک سے کوئلہ پھاٹک تک حفاظتی دیوار کی تعمیر،چمن پھاٹک سے پیشین اسٹاپ تک کالونی کے رہائشیوں کے لیے فٹ پاتھ کی تعمیر اور سڑک کے دوسری جانب ریلوے اراضی اور کوئلہ پھاٹک پر موجود اسکول کی دیوار کی تعمیر شامل ہے

جبکہ ایک عدد ایف سی کا چیک پوسٹ ڈبل اسٹوری جو پہلے روڈ پر تعمیر کیا گیا تھا اس کو تھوڑا کر روڈ کی دوسری جانب چیک پوسٹ ڈبل اسٹوری وہ بھی مکمل کیا گیا ان سب کی تصاویر رپورٹ کے ساتھ آویزاں ہے اور عوام کے لیے زمین پر موجود ہے جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوئی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ منصوبے کے تمام تعمیراتی کام 100 فیصد مکمل کیے جاچکے ہیں۔ یہ منصوبہ جنوری 2026 میں شروع کیا گیا اور محض 76 دنوں کی قلیل مدت میں اپریل 2026 میں مکمل کر لیا گیا، جو کہ محکمہ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ایک سروے کے مطابق اس اہم شاہراہ سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں مستفید ہو رہی ہیں، اس منصوبے سے ہوائی اڈہ روڈ، شہباز ٹان، ماڈل ٹان، جوائنٹ روڈ اور جونیئر اسسٹنٹ کالونی سمیت متعدد رہائشی علاقوں کے مکینوں کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ ٹریفک دبا میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔بیان میں کہا گیا

کہ بعض عناصر کی جانب سے منصوبے کے خلاف پھیلایا جانے والا منفی پروپیگنڈا حقائق کے منافی ہے اور اس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے، تاہم زمینی حقائق اور مکمل شدہ منصوبہ خود اس پروپیگنڈے کی نفی کرتا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل کو سراہتے ہوئے اسے شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے اور حکومت بلوچستان و محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں