حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں لیکوڈ پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولا جائے گا اور ایل پی جی کوٹہ سسٹم ختم کر دیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اورکہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں ہیں جس کے اثرات عوام کو ریلیف کی صورت میں منتقل کیے جائیں گے۔
وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسابقت کو فروغ دیا جائے، چند افراد کی اجارہ داری اور طویل عرصے سے رائج صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔ وزیر اعظم نے اس پورے کراسسز میں عوام کو ترجیح دی اور تیل کی قیمتوں میں سبسڈی دی گئی۔
وزیر اعظم نے عوام کی آسانی کے لیے بڑا فیصلہ کیا، ایل پی جی سیکٹر میں اب مقابلہ ہوگا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ آئل ریفائنریوں کا منافع عوام کو منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسابقت کو فروغ دیا جائے، چند افراد کی اجارہ داری اور طویل عرصے سے رائج صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔
انہوں نے کہا وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کئے۔ ان اقدامات میں وزیراعظم کی عوام کے لیے فکر، احساس اور ریلیف فراہم کرنے کا عزم نمایاں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر میں مسابقت کا فروغ ایک تاریخی اقدام ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو تنہا ئنہیں چھوڑا، سٹرکچرل ریفارمز کیں اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کیے۔
اوگرا نے اپنی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات شائع کرنا شروع کر دی ہیں جو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ شوگر سیکٹر نے پہلی مرتبہ ٹیکس کی مد میں 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو جمع کرایا۔
یہ اقدامات مجموعی طور پر اصلاحات کا حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے سردیوں میں گیس کی فراہمی کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے اور تمام وزراء کو ریلیف کے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے جس پر عمل جاری ہے۔
پٹرولیم لیوی کے معاملے پر وزیراعظم نے خصوصی کاوشیں کیں اور مشکل ترین حالات میں عارضی طور پر اس میں کمی بھی کی گئی۔
جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی تجاویز اور ممکنہ حل پیش کریں اور تکنیکی بنیادوں پر رہنمائی فراہم کریں، جہاں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی گنجائش ہوگی، وہاں ضرور اقدامات کیے جائیں گے تاہم اس حوالے سے پہلے ہی کافی کام جاری ہے۔









