جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شاہراہ قائدین پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوٙئے کہا کہ اس تاریخی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔ 52 سال قبل قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر خود کو احمدی اور لاہوری قرار دینے والوں کو غیر مسلم قرار دیا، اس طرح قومی اسمبلی نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی۔ 6 ستمبر کو ملک کی دفاعی سرحدوں کا تحفظ ہوا تھا، 7 ستمبر کو نظریاتی سرحدوں کا تحفظ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی سرحدوں، نظریہ اور دینی تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں اٹھائے جانے والے مسائل کچھ اور ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے، میں عالمی قوتوں اور پاکستان کی مقتدرہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں جو سبق پڑھانا چاہتے ہیں وہ ہمیں قبول نہیں، ہم آپ کے خود ساختہ ایجنڈے اور مقاصد کو خوب جانتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج پاکستان کے دینی مدارس کو نشانے پر رکھا ہوا ہے، تمہارا باپ بھی نہ مدرسے بند کر سکتا ہے نہ مولوی کو بننے سے روک سکتا ہے، یہ نظریاتی اور فکری جنگ ہے، یہ جنگ انگریز بھی ہار گیا تھا آج اس کے ایجنٹ بھی ہار جائیں گے۔ علما، مدرسہ، جمعیت علمائے اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق المدارس العربیہ اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ یہ سب ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوشش کی کہ ایران اور امریکہ میں صلح کرا دے، آج یمن سے ایک گروہ اٹھا ہے جو سعودی عرب پر حملہ آور ہے، ہم سعودی عرب کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار ہے۔ امریکہ نے افغانستان، عراق اور ایران میں اور اسرائیل نے فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، اب سعودی عرب کے خلاف کچھ قوتوں کو ابھارا جا رہا ہے۔









