صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے نوجوانوں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے تشدد کے بجائے قلم، تباہی کے بجائے ترقی اور نفرت کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم بندوق کے زور پر مذاکرات کسی صورت نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں سے ضرور بات چیت ہوگی جو پاکستان کے آئین اور ریاستی نظام کو تسلیم کرتے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اس بحث سے نکلنا ہوگا کہ مذاکرات کس سے ہونے چاہئیں اور کس سے نہیں، بلکہ اپنی توجہ بلوچستان اور پاکستان کی ترقی، امن، خوشحالی اور عوام کے بہتر مستقبل پر مرکوز کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، تشدد اور نفرت کو مل کر مسترد کرنا ہوگا اور امن تباہ کرنے، عوام کو تقسیم کرنے اور معصوم جانوں کو نقصان پہنچانے والوں کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قلم کو اپنا ہتھیار بنائیں، تعلیم حاصل کریں اور پارلیمانی و جمہوری جدوجہد میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان جمہوری جدوجہد کے ذریعے ملک اور قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اصل طاقت اتحاد، تعلیم، محنت، شعور اور وطن سے محبت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوام ریاست اور آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہو کر ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ دنیا میں ریاست اور آئین کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے سامنے ریاستی نظام کو کمزور کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں۔ بندوق، دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے اپنی بات منوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں، تعلیم، جمہوری عمل اور ملک و صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے صرف کریں۔









