وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے ہمسایہ صوبوں کے حوالے سے بیان پر انہیں دکھ ہوا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بلوچستان کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے،
ہم پاکستان کے لیے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔میڈیا اینکرز اور سینئر صحافیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اللہ نہ کرے پنجاب کو بھی بلوچستان کی طرح دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑے۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز انتہائی مشکل حالات میں کام کر رہی ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے
گی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عسکری اور سیاسی قیادت متفق اور یکسو ہے، ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔
تاہم دشمن کے بہکاوے میں آنے والے نوجوانوں کو ضرور قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ نئے صوبوں کی مشروط حمایت کرتے ہیں،
پہلے قومی اسمبلی میں اتفاق رائے قائم کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں اتفاق رائے ہوجائے تو بلوچستان اسمبلی بھی اس کے لیے تیار ہے۔ نئے صوبے بنائے جائیں تو لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں کرپشن مکمل ختم کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا،
تاہم کرپشن میں کمی ضرور آئی ہے۔ بلوچستان میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا علم نہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، جب تک ذمہ داری ہے عوام کی خدمت کرتا رہوں گا۔ تعلیمی اداروں سمیت تمام محکموں میں میرٹ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔افغان مہاجرین سے متعلق سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن بھیجا گیا ہے۔
سابق افغان فورسز کے افراد کی بلوچستان میں موجودگی ضرور تھی تاہم اب ان کی تعداد کم ہوگئی ہے۔
سابق افغان فورسز کے لوگوں کو یہاں پناہ دے کر پاکستان اپنے لیے درد سر نہیں بنانا چاہتا۔لاپتہ افراد کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر غلط انداز سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں ترقیاتی کام ریکارڈ مدت میں مکمل کیے گئے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے میں میرٹ، ترقی اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنایا جائے









