بلوچستان میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے، آل پارٹیز

24

بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر صدارت نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر جان محمد شہی کی میزبانی میں محمدشہی ہاوس کوئٹہ میں منعقد ہوا.

اجلاس میں جمعیت علمااسلام کے صوبائی صدر سینیٹرمولانا عبدالواسع ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی صدر عبدالخالق ہزارہ، پشتونخواہ نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے،نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان ، بلوچستان نینشنل پارٹی کے موسی بلوچ اور جماعت اسلامی کے زائد اختر شریک ہوئے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکا نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے.

سیاست معیشت اور کاروبار زندگی بے حد متاثر ہو گئے ہیں کاروبار اور شاہراہیں بند ہیں بارڈرز بند کردی گئی ہیں کبھی اعلانیہ کبھی غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کی جاتی ہے اشیائے خوردونوش کی ترسیل بند ہوچکی ہے جو کسی بھی وقت اشیائے خوردونوش کا بحران پیدا کرسکتا ہے زیارت ہنہ اوڑک کے واقعات پھر کھڈکوچہ میں پھل دار درختوں کی کٹائی ،لوگوں کو بے دخل کرنا یہ سب اس بات کا تقاضا کررہے ہیں کہ زورآور قوتیں ایک نقطہ پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں.

کہ یہاں سیاست اور سیاسی جماعتیں ناپید ہوجاہیں سیاست شجر ممنوعہ بن جائے اس کے لیئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں مشترکہ موقف اختیار کریں آگے بڑھیں اور بھرپور سیاسی کردار ادا کریں ، شرکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ڈی ایم کے تلخ تجربے کے بعد یہ امر لازم ہوچکا ہے کہ ہم بلوچستان کی سطع پراتحاد بناہیں مگر پاہیدار اتحاد ہو جس کے لیئے اعتماد اور احترام لازمی ہے،

اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ایجنڈا ہے وہ جب بھی پھنس جاتے ہیں سیاستدانوں کا کندھا استعمال کرتے ہیں پائیدار امن کیلئے لازم ہے کہ سیاسی اور جمہوری جماعتیں یکجا ہوکر بھرپور سیاسی تحریک کا آغاز کریں ، اس وقت بلوچستان میں سیاسی جماعتیں دو زورآور قوتوں کے درمیان بری طرح پھنس گئے ہیں حکومت انہیں سہولت کار اور تنظیمیں کہتے ہیں آپ ریاست کے مضبوطی کی بات کرتے ہو اس لیئے ہمارے لیئے قابل قبول نہیں ہو دونوں طرف سے سیاسی جماعتیں مارکھارہے ہیں.

کھربوں روپے خرچ کرکے بارڈر پر خاردار تار لگائے گئے سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود زیارت اور ہنہ اوڑک میں دہشتگرد کہاں سے آکرعلاقوں کو خالی کرارہے ہیں ، سیاستدانوں نے اربوں روپے خرچ کرکے لوگوں کے گھروں تک دوردراز بجلی پہنچائے اب اربوں روپے کے کھمبے تار اور ٹرانسفارمر کیسکو کمپنی لے جا کر لوگوں کو اندھیرے میں دھکیلا گیا اور حکومت نے بیس بیس لاکھ روپے لے سولر دیکر جان چھڑا لیا ، سرانان زیارت کراس ہنہ اوڑک کے واقعات پھر کھڈکوچہ میں باغات و باغبان کو دہشتگرد قراردیکر درخت کاٹنا لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنا بد ترین آمریت ہے، مولانا واسع نے کہا لوگوں کے لیئے ان کی جھونپڑی ، ان کا باغ دکان ان کا پاکستان ہے اگر ان کا باغ دکان کاروبار کچا گھر برباد کیا جاہیگا.

سمجھ لو کہ ان کا پاکستان ہی ان سے چھن گیا، دو صوبوں میں پہلے سے بیزاری تھی اب نئے صوبوں کا راگ الاپنے سے سندھ میں بھی خلفشار اور بے چینی پیدا ہوگئی، شرکا نے کہا کہ یہ اتحاد بلوچستان کے عوام کے لیئے سنگ میل ثابت ہوگا اور ان جماعتوں کا موقف ہے کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا پورے صوبے کیان وسائل کی لوٹ مار سمیت سیاست کو یرغمال بنادیا گیا ہیجو بلوچستان میں بسنے والے تمام اقوام کے لیئے ناقابل قبول ہے کیونکہ یہاں بسنے والے لوگوں کی یہ صوبہ مشترکہ وطن ہے اور ان کے وسائل بھی یکساں ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں