بلوچستان میں پہلی بار حکومت نے بجٹ میں شامل ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرکے ترقیاتی اہداف حاصل کر لیے

27

بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت بلوچستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران بجٹ میں شامل ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تکمیل کو یقینی بناتے ہوئے اپنے مقررہ ترقیاتی اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے۔

حکومت نے ایک جانب غیر ترقیاتی اخراجات میں 28 ارب روپے کی بچت کی جبکہ دوسری جانب 2,966 ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے ترقیاتی وسائل کے مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز استعمال کی نئی مثال قائم کی۔ یہ بات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی، جس میں گزشتہ اور رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے گزشتہ مالی سال کی کارکردگی رپورٹ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو پیش کی، جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا مقررہ ہدف مکمل طور پر حاصل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ میں منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تکمیل یقینی بنائی گئی، جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات میں 28 ارب روپے کی بچت کے ساتھ 2,966 ترقیاتی منصوبے پائی تکمیل تک پہنچائے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران 2,280 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مؤثر مانیٹرنگ اور سخت نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ترقیاتی اہداف کے کامیاب حصول پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات، چیف سیکرٹری، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس، مؤثر مانیٹرنگ اور مضبوط نگرانی کے نظام کا ثمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ترقیاتی وسائل کی ایک ایک پائی عوام کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی پر خرچ کی جائے گی، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، رفتار اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ کی مؤثر نگرانی سے بدعنوانی اور کرپشن کی مؤثر روک تھام ممکن ہوگی اور ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر ضلع اور ہر شہری تک پہنچائے جائیں گے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ رواں مالی سال کے ترقیاتی اہداف بھی مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں گے تاکہ بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کی نئی منزلوں کی جانب مزید تیزی سے گامزن کیا جا سکے اجلاس میں صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب احمد نوشیروانی، میر محمد صادق عمرانی، سردار فیصل خان جمالی نے بھی شرکت کی۔صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں گزشتہ دو برس کے دوران تاریخی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں،

جن کے نتیجے میں نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی بلکہ صوبہ پہلی مرتبہ 114 فیصد ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی سطح تک پہنچا، جو بلوچستان کی بڑھتی ہوئی استعدادِ کار کا واضح ثبوت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کارکردگی سے متعلق منعقدہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سالانہ پیش رفت رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گزشتہ ڈھائی سال کے ترقیاتی پروگرام، حاصل ہونے والی کامیابیوں، ادارہ جاتی اصلاحات، پالیسی اقدامات اور ریگولیٹری ریفارمز کو جامع انداز میں مرتب کیا گیا ہے تاکہ عوام اور متعلقہ اداروں کو صوبے کی ترقیاتی کارکردگی سے آگاہ کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران محکمہ نے پی ایس ڈی پی کو مکمل طور پر آٹومیٹ کیا ہے۔ اب ترقیاتی منصوبوں کی آن لائن سبمیشن، خودکار منظوری کے مراحل، ڈیٹا انٹیگریشن اور دیگر تمام متعلقہ امور ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی موبائل ایپ بھی تیار کی گئی ہے۔

جس کے ذریعے پی اینڈ ڈی کے افسران اور متعلقہ حکام کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی سائٹ پر جا کر اس منصوبے کی مکمل معلومات فوری طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً تمام ترقیاتی منصوبوں کی یونین کونسل کی سطح تک جیو ٹیگنگ بھی مکمل کی جا چکی ہے، جس سے منصوبوں کی نگرانی مزید مؤثر ہوئی ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ ماضی میں اکثر ترقیاتی منصوبوں کی فیزیبلٹی کمزور ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے تھے، تاہم اب ماہرین کی خدمات حاصل کرکے ڈیٹا اینالیسز کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ صوبائی شماریاتی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ لانچ کیا گیا ہے جبکہ 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں پر مبنی رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے، جس میں گزشتہ 13 برس کے دوران بلوچستان کی ترقی، اس کے رجحانات اور عوام تک پہنچنے والے فوائد کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ کا مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ طویل عرصے سے غیر فعال تھا، جسے دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ ٹیموں نے 2022 ترقیاتی منصوبوں کے دورے کیے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 378 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی بروقت تکمیل، فنڈز کے درست استعمال اور عوام تک حقیقی فوائد کی فراہمی کا بھی مسلسل جائزہ لیا جائے صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت مجموعی طور پر 6 ہزار 728 ترقیاتی اسکیمیں شامل تھیں، جن میں 3 ہزار 758 جاری منصوبے جبکہ 2 ہزار 970 نئی اسکیمیں تھیں۔ ان منصوبوں کے لیے 249 ارب روپے کا ترقیاتی حجم مختص کیا گیا تھا، تاہم مؤثر منصوبہ بندی اور انتظامی اصلاحات کے باعث 283 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو 114 فیصد فنڈز کے استعمال کے برابر ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں وفاقی بیوروکریسی اور دیگر حلقوں کا تاثر تھا کہ بلوچستان اپنی ترقیاتی فنڈز کی استعدادِ کار کو 50 سے 70 فیصد سے آگے نہیں لے جا سکتا، لیکن موجودہ حکومت کی اصلاحات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقیاتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس استعداد کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی میر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ مالی سال 2026-27کے لیے 206 ارب روپے کی صوبائی پی ایس ڈی پی منظور کی گئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز محکمہ مواصلات و تعمیرات کو مختص کیے گئے ہیں، اس کے بعد محکمہ آبپاشی جبکہ تیسرے نمبر پر محکمہ تعلیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ تعلیم کو نظر انداز کیا جاتا رہا، تاہم موجودہ حکومت نے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے اسے ترقیاتی ترجیحات میں تیسرے نمبر پر پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اسکولوں کی اپ گریڈیشن، مسنگ سہولیات کی فراہمی، واش پروگرام کے ذریعے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیاری تعلیم کے لیے درکار تمام وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کے تعلیمی ادارے مکمل سہولیات سے آراستہ ہوں۔

اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ترقیاتی منصوبہ بندی، منصوبوں کی تیاری، ان کی جانچ پڑتال، منظوری اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران منصوبوں کی تیاری، اپریزل اور منظوری کے نظام میں نمایاں اصلاحات کی گئی ہیں جبکہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد اور فنڈز کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 249 ارب روپے کے مقابلے میں 283 ارب روپے خرچ کیے گئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس اور بالخصوص مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ کو مؤثر اور فعال بنایا گیا۔

پی اینڈ ڈی کے آٹومیشن سسٹم کے تحت تمام پی سی ون مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیے گئے ہیں۔ اب کسی بھی منصوبے کی ہارڈ کاپی تیار نہیں ہوتی بلکہ تمام مراحل آن لائن مکمل کیے جاتے ہیں، جس سے منصوبہ بندی کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ زاہد سلیم نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ایم اینڈ ای ونگ نے 2022 ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ متعلقہ محکموں کو خامیوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔ 30 جون تک 45 منصوبوں پر اصلاحی کارروائی باقی تھی، تاہم تازہ ترین جائزے کے مطابق ان میں سے 40 منصوبوں پر ضروری کارروائی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ اب صرف پانچ منصوبے ایسے رہ گئے ہیں جن پر اصلاحی اقدامات ہونا باقی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں مکمل ہونے والی 3 ہزار 20 ترقیاتی اسکیموں کی تصدیق کے لیے انہیں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے گراؤنڈ ویری فکیشن کے لیے بھیجا گیا۔ ابتدائی طور پر 32 منصوبوں میں خامیاں سامنے آئیں، تاہم تازہ ترین جائزے کے مطابق صرف ایک منصوبہ، جو پنجپائی کا ہے، نامکمل پایا گیا، جسے مزید کارروائی کے لیے سی ایم آئی ٹی اور اینٹی کرپشن کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے پہلی مرتبہ بلوچستان کے 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں کا تجزیہ کیا ہے اور دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ، کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی تیار کیا ہے تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جا سکے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کا جامع ڈیٹا بھی مرتب کیا گیا ہے۔

اس وقت محکمہ کے پاس 2 لاکھ 39 ہزار امیدواروں کا ضلع وار، صنفی اور تعلیمی بنیادوں پر مکمل ریکارڈ موجود ہے، جس کی مدد سے روزگار اور لائیولی ہڈ پروگرامز کو زیادہ مؤثر اور ہدفی بنیادوں پر تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ بے روزگاری میں کمی لانے اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں مدد مل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں