وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاج پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مظاہرین کے حوالے سے بیان دیا ہے کہ احتجاج کرنے والے ایسے عناصر ہیں جن کی نوعیت اُن گروہوں سے ملتی جلتی ہے جنہیں ماضی میں ریاست نے تیار کیا مگر بعد میں وہی ریاست کے لیے مسئلہ بن گئے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج میں شامل افراد کے پاس اسلحہ موجود ہے اور ان کی سرگرمیوں کا تعلق کسی سیاسی مطالبے سے نہیں بلکہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں اس لیے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے جو بھی کارروائی کریں گے وہ ناگزیر ہوگی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کشمیر کاز پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور نہ ہی کسی گروہ کو تشدد یا دباؤ کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی ایکشن کمیٹی کی تحریک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقوق کے حصول کی نہیں بلکہ ریاستی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں ملکی اور غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، جبکہ مظاہروں کے دوران اسلحے کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معمول کا عوامی احتجاج نہیں۔
حکومتی رہنماؤں نے واضح کیا کہ ریاست امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔









