سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے چیئرمین سینیٹر پرویز رشید نے موٹروے پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نکاح نامے چیک نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس ہوا۔ اس دوران موٹروے پولیس کے ہینڈ آٹ پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے وضاحت طلب کرلی۔
سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ موٹروے پولیس نے سینیٹرز کے نام ہینڈ آٹ میں کس بنیاد پر شامل کیی موٹروے پولیس کو کیسے معلوم ہوا کہ برآمد سامان مخصوص سینیٹرز سے متعلق تھا انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے ذاتی فعل کو سینیٹ یا کمیٹی سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
کمیٹی نے کبھی کسی ادارے پر غیرضروری دبا نہیں ڈالا۔ ذیلی کمیٹی نے سگریٹ اسمگلنگ اور ٹیکس چوری معاملات قانون کے مطابق اٹھائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی ادارے نے نام جاری کیے ہیں تو اس کی مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ موٹروے پولیس کو انٹیلی جنس معلومات ملتی ہیں، افراد سے متعلق قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی۔ اجلاس کے دوران آئی جی موٹروے نے کہا کہ ہمارا کام کارروائی کرنا ہے، کسی شخصیت یا ادارے سے متعلق تبصرہ کرنا نہیں ہے۔ کمیٹی چیئرمین پرویز رشید نے کہا کہ موٹروے پولیس کی اچھی ساکھ ہے جو برقرار رہنی چاہیے۔
شہریوں کے نکاح نامے چیک کرنے کی موٹروے پولیس کو کس نے اجازت دی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں این ایچ اے کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ پرانے منصوبے پہلے مکمل کریں پھر نئے منصوبے شروع ہونے چاہئیں۔حکام وزارت مواصلات نے کہا کہ پرانے منصوبے پہلے مکمل کر رہے ہیں، نئے منصوبے شروع نہیں کر رہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ منصوبوں کیلئے چار چار ماہ رقم جاری نہیں ہوتی جس کے باعث کام رک جاتے ہیں۔ پلاننگ کمیشن کو بھی کمیٹی اجلاس میں طلب کرنے کی تجویز ہے۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ موٹروے پر پہلے حد رفتار 140 تھی، اس وقت ہونے والے 10 چالانوں میں میرا بھی ایک چالان تھا۔ موٹروے پر پیش آنے والے واقعے سے متعلق موٹروے پولیس کمیٹی کو آگاہ کرے۔
اس پر آئی جی موٹروے نے کہا کہ گاڑی پارکنگ زون میں چیک کی گئی، ڈرائیور سمبڑیال سے گاڑی لے گیا اور پھر واپس آیا۔ واقعے کی انکوائری جاری ہے، مکمل ہونے پر رپورٹ کمیٹی میں پیش کردی جائے گی۔سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ چکری کے قریب 11 ٹرکوں سے 20 کروڑ روپے کے سگریٹ پکڑے گئے اس پر آئی جی موٹروے نے کہا کہ کسٹمز کی فراہم کردہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہیں۔
سیف اللہ ابڑو نے مزید کہا کہ آپ کا ایس پی کہتا ہے، سینیٹر کیا ہوتا ہی حالانکہ میں نے کبھی اسے فون نہیں کیا۔اجلاس کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مواصلات کا کہنا تھا کہ حکومت این ایچ اے کو فنڈز نہیں قرض دیتی ہے۔ یہ قرضہ 3 ہزار 700 ارب تک پہنچ گیا ہے، این ایچ اے اس قرض پر سود ادا کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ صوبوں کے پاس ترقیاتی فنڈز وفاق سے زیادہ ہیں، بلوچستان کے لیے 116 ارب روپے کا فنڈ رکھا گیا ہے،کراچی، کوئٹہ اور چمن تک پاکستان ایکسپریس وے کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق پاکستان ایکسپریس وے کو ایک سال میں مکمل کیا جائے گا۔سینیٹر عبدالقادر نے آئندہ اجلاس میں پلاننگ کمیشن حکام کو طلب کرنے کی تجویز دی جبکہ چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر پرویز رشید نے موٹروے پولیس کو نکاح نامے چیک نہ کرنے کی ہدایت کردی۔ پرویز رشید نے کہا کہ موٹروے پولیس ایک ذمہ دار ادارہ ہے، آئندہ کوشش کریں کہ کسی کا نکاح نامہ چیک نہ کریں۔









