بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گذشتہ دو روز کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں میں ایک مزدور سمیت 2افراد ہلاک جبکہ ایک ٹرک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔اس کے علاوہ پولیس کے ایک ڈی ایس پی، ایک پروجیکٹ مینیجر اور 6مزدوروں سمیت 12 افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے جبکہ مسلح افراد نے 7مال بردار گاڑیوں اور گیس باؤزرز کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
پولیس کے مطابق بارکھان میں منگل کی شام کو ڈی ایس پی مرید بگٹی اور ان کے گن مین کانسٹیبل رسول بخش کو اغوا کیا گیا۔بارکھان پولیس کے ایک افسر کے مطابق ’مرید بگٹی رکھنی سے نجی گاڑی میں بارکھان کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر انہیں روکا، گاڑی سے اُتارا اور پہاڑوں کی طرف لے کر فرار ہو گئے۔
‘اطلاع ملتے ہی پولیس، ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اداروں کی بھاری نفری موقعے پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
دوسرا واقعہ پیر کی شام کیچ کے ضلعی ہیڈکوارٹرز تُربت میں تھانہ صدر کی حدود میں کلاتک کے مقام پر پیش آیا جہاں مسلح شدت پسندوں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔مکران ڈویژن میں تعینات پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران وہاں سے گزرنے والی ایک گاڑی کو روک کر اس میں سوار 7مزدوروں کو اغوا کر لیا۔
یہ مزدور ایک تحصیل دار کے گھر میں تعمیراتی کام کر رہے تھے اور شام کو اپنے رہائشی کوارٹر کی طرف واپس جا رہے تھے۔مسلح افراد نے مغویوں میں سے صوابی کے رہائشی جاوید خان کو گولیاں مار کر قتل کر دیا جبکہ باقی 6افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا ہونے والوں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز موقعے کی طرف روانہ ہوئیں تو مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کی زد میں آکر ایک مقامی راہگیر عبدالرزاق ہلاک ہو گیا۔
پولیس اور سکیورٹی فورسز نے اس واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔تیسرا واقعہ خضدار میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے پروجیکٹ مینیجر سمیت چار افراد کو اغوا کر لیا۔خضدار ڈویژن کے ایک سینئرافسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ تین روز قبل اس وقت پیش آیا جب ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس پروجیکٹ کے مینیجر آفتاب احمداپنی ٹیم کے ہمراہ کرخ سے خضدار کی طرف آ رہے تھے۔
مسلح افراد ان کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ دیگر مغویوں میں سعید اللہ، عبداللہ اور ڈرائیور محی الدین شامل ہیں۔چوتھا واقعہ ضلع چاغی میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے فائرنگ کے بعد سات مال بردار گاڑیوں اور باؤزرز کو آگ لگا کر تباہ کر دیا۔فائرنگ کی زد میں آکر ایک ٹرک ڈرائیور زخمی بھی ہوا جسے نوشکی میں ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کوئٹہ کو تفتان سے ملانے والی قومی شاہراہ این 40 پر چاغی کے علاقے پدگ میں پیش آیا۔مسلح افراد نے ایک ہوٹل کے سامنے کھڑے ہو کر فائرنگ کے بعد پانچ ٹرالرز اور دو گیس باؤزرز کو نذرِ آتش کر دیا۔حکام کے مطابق بلوچستان میں اس شاہراہ پر گذشتہ دو ماہ کے دوران 100 سے زائد ٹرکوں، آئل ٹینکرز اور ایل پی جی گیس باؤزرز کو فائرنگ اور نذرِ آتش کر کے تباہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ان مسلسل حملوں میں متعدد ڈرائیورز بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 24 جولائی کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ سے نامعلوم افراد نے ایک کورئر کمپنی کے ڈرائیور سمیت دو ملازمین کو کوئٹہ کراچی شاہراہ سے اغوا کیا تھا جن کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔ مغویوں کا تعلق کوئٹہ اور ہزارہ برداری سے بتایا جاتا ہے۔









