سوئی ڈیرہ بگٹی کے نام پر جاری اربوں روپے زمین پر خرچ نہیں ہوئے، گہرام بگٹی

31

جمہوری وطن پارٹی بلوچستان کے صدر سابق صوبائی وزیر نواب زادہ گہرام بگٹی نے کہا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں سوئی ڈیرہ بگٹی کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز جاری ہوئے لیکن زمین پر کچھ نظر نہیں آرہا ہے اس کی تحقیقات کی جائے نو جوانوں کی آواز کو دبا کر انہیں روزگار سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

پی پی ایل سن کوٹہ پر سودے بازی کر کے لوگوں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے اس طرح کے اقدامات کی اجاازت نہیں دیں گے نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد اتنے حالات خراب نہیں ہوئے جتنے موجودہ وزیراعلیٰ کے دور حکومت میں ہوئے ہیں۔

جہاں پر جج سمیت عوام بھی محفوظ نہیں قومی شاہراہیں غیر محفوظ ہیں حکومت کی رٹ کا نام و نشا ن نہیں جبکہ حکمران سب اچھا کا راگ آلاپ رہے ہیں اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ 3سال سے حقائق بیان کر رہا تھا

کہ حقیقی نمائندوں کا راستہ روک کر منظور نظر غیر عوامی لوگوں کو اقتدار پر مسلط کر کے سوئی ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان کو بحرانوں کے گرداب میں ڈھکیل دیا گیا جہاں پر فورسز اور عوام کی روزانہ کی بنیاد پر قتل وغارت گری روز کا معمول بن چکی ہے قومی شاہراہیں اور صوبے میں بسنے والی تمام قومیتیں اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ غیر محفوظ ہو چکے ہیں تعلیم یافتہ نوجوانوں پر روز گار کے دروازے بند ہیں غلط فیصلوں نے بلوچستان کو گزشتہ 78سالوں میں اتنا جانی مالی نقصان نہیں پہنچایا جتنا موجودہ وزیراعلیٰ کے ڈھائی سالہ دور حکومت میں پہنچا یا ہے۔

سوئی ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کو مزید پسماندگی کی جانب دھکیلا گیا اربوں روپے کے فنڈز علاقوں کے نام پر ریلیز ہونے کے باوجود زمینی حقائق اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا اور نہ ہی لوگوں کو روزگار ملا فنڈز خرد برد کی نظر ہو گیا لوگ آ ج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم اور عدم تحفظ کا شکار ہیں بیان میں کہا گیا کہ مقامی قبائل اور عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کئے گئے فیصلوں اور معاہدوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے حالات مزید ابتری کی جانب بڑھ رہے ہیں جو مقتدر قوتوں کیلئے لمحہ فکر ہے اس لئے پی پی ایل نے سن کوٹہ پر سودے بازی کر کے لوگوں کا معاشی قتل کیا۔

جس کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے مشکلات سے دو چار ہے اگر حکومت اور کمپنی حکام نے مطالبات نہ مانے تو متعلقہ فارم اور اداروں سے رجوع کرنے کے علاوہ قانونی چارہ جوئی بھی کریں گے کیونکہ خود ساختہ لوگوں نے اپنے ذاتی اور گروہی مفاد کیلئے علاقے میں بد امنی کو فروغ دیا ہونے والے جانی نقصانات کا ازالہ نہیں ہو سکتا بگٹی قوم ایسے عناصر کے جھوٹے من گھڑت وعدوں اور دعووں میں آنے والے نہیں کیونکہ گزشتہ دو سالوں میں اربوں روپے کے فنڈز سوئی ڈیرہ بگٹی کے نام پرجاری ہوئے لیکن زمین پر کچھ نظر نہیں آرہا نوجوانوں کی آواز دبانے کیلئے انہیں اٹھواکر خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔

آج ہمارے روز اول سے موقف اور حقائق پر قوموں کے سربراہاں ہماری بات کی تائید کرتے ہوئے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیانات جاری کر رہے ہیں جب تک حقیقی قیادت کو ووٹ کی پرچی سے ایوان میں پہنچنے نہیں دیا جا ئے گا اس وقت کر مصنوعی نمائندو ں کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں بلکہ ایسے اقدامات سے سوئی ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان بھر میں حالات مزید بحرانوں کا شکار ہوں گے لوگوں کی قتل و غارت گری اور بد امنی بڑھے گی جو صوبے اور عوام کیلئے نیک شگون نہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی نمائندوں اور قیادت کو آگے لایا جائے تاکہ پر امن اور خوشحال بلوچستان کا خواب شرمندہ تعبیر بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں