ّایف سی کو امن کی بحالی کے بجائے دوسرے دھندوں میں مصروف ہوگئی ہے ، مولانا ہدایت الرحمن

22

جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ ایف سی کو امن کی بحالی کیلئے لایا گیا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوکر اپنی ذمہ داری نبھانے کی بجائے دوسرے دھندوں میں مصروف ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان کی چیک پوسٹوں کے قریب ہمارے لوگوں کی قتل و غارت گری اور گاڑیوں کو جلانے کا سلسلہ جاری ہے ایس ایچ او کی مار والے وزیر داخلہ کی کوئٹہ آمد کے باوجود صوبے کی شاہراہیں سفر کیلئے غیر محفوظ ہے۔

جب تک یہاں پر اربوں روپے ہیں دہشت گردی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو صوبہ بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے امن دو احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مظاہرین نے بینرز ، پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچستان کو آپریشن نہیں محبت کی ضرورت ہے لوگوں کو امن دو ، زخموں پر مرہم رکھو جیسے نعرے درج تھے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن ، محمد نعیم رند، مولانا انعام الحق، میر محمد نوید محمد شہی، عبدالرحمن موسیٰ خیل، ارشد یوسفزئی ، سلمان گل، فاروق مشوانی ، مولانا عبدالحمید منصور، عبدالولی شاکر سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم تعلیم، صحت ، مہنگائی، بے روزگاری کے لئے سراپا احتجاج نہیں بلکہ جینے کا حق مانگنے کے لئے صوبے بھر کی طرح کوئٹہ میں احتجاج کررہے ہیں تاکہ حکمرانوں اور طاقتور قوتوں سے جینے کا حق مانگ سکیں۔

ہماری شاہراہیں غیر محفوظ ہیں جہاں پر تمام طبقات جج ، پولیس سمیت سب غیر محفوظ ہیں جبکہ کوئٹہ میں 3 دیواریں بناکر ان کے اندر بیٹھ کر ہر واقعہ کے بعد بوسیدہ باتیں دہرائی جاتی ہے کہ کیفر کردار تک پہنچائیں گے لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا کیونکہ ایف سی کو صوبے میں امن کے قیام اور لوگوں کی حفاظت کے لئے لائے تھے لیکن وہ اپنی اصل ذمہ داری سے ہٹ کر کوئلہ ، ڈیزل، پیٹرول ، سمگلنگ اور دیگر کاموں میں مصروف ہوکر بھتہ لینے پر چل پڑی جس کی وجہ سے صوبے کی شاہراہوں پر قائم چیک پوسٹوں کے قریب ہمارے لوگوں کو قتل گاڑیوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے لیکن ایف سی کہیں نظر نہیں آتی ہے جب ہم انہیں چوکیدار کہتے ہیں تو وہ برا مناتے ہیں کیونکہ وہ ہماری حفاظت کیلئے چوکیدار کا کام ہی کرتے ہیں جس کا انہیں معاوضہ ملتا ہے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں امن نہیں ہر طرف بد امنی، دہشت گردی ہے شاہراہیں غیر محفوظ ہیں اربوں روپے امن کی بحالی پر خرچ کرنے کے باوجود امن کا نام و نشان نہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج تک لوگوں کے قتل میں ملوث کوئی قاتل گرفتار نہیں ہوا کیونکہ ایف سی بھتہ وصولی میں لگی ہوئی ہے پولیس کے اختیارات ایف سی کو ، کسٹم کے اختیارات ایف سی کو دیئے گئے لیکن وہ امن کی بحالی میں ناکام ہوکر بھتہ وصولی اور سمگلنگ کی روک تھام میں مصروف ہوگئے جس میں وہ ناکام رہے ہیں زیارت میں ہمارے 27 پولیس کے جوان دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ایف سی کی جانب سے ان کی مدد کیلئے نہ پہنچنا ان کے کردار اور عمل پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ وہ بھتہ وصولی میں مصروف ہے انہوں نے کہا کہ جنگ کو کاروبار بنالیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان میں امن وامان کا نام و نشان ہے جب تک اربوں روپے آتے رہیں گے لوگ مرتے رہیں گے ہمیں جینے کا حق دیا جائے ادارے اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں