معاشی مشکلات، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات اور عوامی خدمات پر بھاری دباؤ کے باوجود گزشتہ سال پاکستان میں لاکھوں بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئیں۔ تاہم ان کی بڑی تعداد اب بھی صحت، تعلیم، غذائیت اور تحفظ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
پاکستان میں بچوں کی صورتحال پر عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بچوں کی تعداد 11 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ یا ملک کی مجموعی آبادی کا 47 فیصد ہے جس کے نتیجے میں بنیادی خدمات پر بھاری دباؤ ہے جبکہ موسمیاتی خطرات، علاقائی عدم مساوات اور محدود مالی وسائل نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ملک میں 5 سے 16 سال عمر کے تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
گزشتہ سال موسمیاتی آفات، نقل مکانی اور دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ دو کروڑ 47 لاکھ بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت تھی۔ بچوں میں قابل انسداد اموات کی شرح اب بھی بلند ہے۔ ہر ایک ہزار بچوں میں سے 47 ایک سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے قابل انسداد وجوہات کی بنا پر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ پانچ سال کی عمر سے پہلے انتقال کر جانے والوں کی شرح ایک ہزار میں 62 ہے۔
غذائی قلت کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کی زندگی خطرات سے دوچار ہے جبکہ سماجی تحفظ اور دیگر بنیادی خدمات تک ناکافی اور غیریکساں رسائی بھی انہیں درپیش بڑے مسائل میں شامل ہیں۔
ان مشکلات کے باوجود 2025 میں بچوں کی بہبود کے ضمن میں میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ یونیسف کے اشتراک سے بچوں کے لیے بنیادی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، معاشرتی و موسمیاتی استحکام پیدا کرنے اور خاص طور پر غربت میں زندگی گزارنے والے بچوں تک مربوط خدمات پہنچانے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔
پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور مقامی لوگوں کے باہمی تعاون سے بچوں اور خواتین کے لیے خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط کرنے پر نمایاں کام ہوا۔ اس ضمن میں غربت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، نقل مکانی، ہنگامی حالات اور سماجی محرومیوں کا شکار بچوں پر خاص توجہ مرکوز کرتے ہوئے صحت، غذائیت، تعلیم، سماجی تحفظ اور پانی و صفائی سے متعلق خدمات میں بہتری لائی گئی۔
تحفظ اطفال: تبدیلی کی بنیاد
صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ سجاد چند ماہ پہلے ایک دکان پر لوہے کی ویلڈنگ کا خطرناک کام کرنے پر مجبور تھے جو اب سکول جاتے ہیں اور پڑھ لکھ کر اچھا مستقبل پانے کے خواب دیکھتے ہیں۔
اپنے والد کی وفات کے بعد سجاد اور ان کی والدہ ایک رشتہ دار کی سرپرستی میں آ گئے جس نے انہیں اس دکان پر بطور ملازم بھرتی کروایا تھا جہاں کام کرتے ہوئے ان کی صحت اور زندگی کو خطرہ لاحق رہتا تھا۔
رشتہ دار ان کی والدہ پر سختی کرتا اور تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔
کچھ عرصہ قبل ان کا معاملہ صوبہ پنجاب کی حکومت کے شعبہ تحفظ اطفال کی نظروں میں آیا جس نے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا، رشتہ داروں کے ساتھ قانونی ثالثی کروائی اور دونوں کو نفسیاتی و سماجی معاونت فراہم کی۔ بعدازاں سجاد کی والدہ کو فنی تربیت مہیا کی گئی جس کے نتیجے وہ خود مختارانہ طور پر روزی کمانے کے قابل ہو گئیں۔
آج سجاد کی زندگی بالکل مختلف ہے۔ وہ دوبارہ سکول جا رہے ہیں، اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ سیکھتے ہیں اور اس بچپن کو دوبارہ حاصل کر رہے ہیں جو وہ تقریباً کھو چکے تھے۔
2025 میں یونیسف کی معاونت سے سماجی تحفظ کے اداروں نے سجاد اور ان کی والدہ جیسے 15 لاکھ افراد تک رسائی حاصل کی اور تقریباً 4,000 بچوں کو جبری مشقت اور تشدد سے تحفظ مہیا کیا گیا۔
تحفظ کا آغاز شناخت سے بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے بچے پیدائش کے وقت رجسٹرڈ نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ خدمات اور قانونی تحفظ سے محروم رہتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے یونیسف نے طبی مراکز اور پیدائش کی رجسٹریشن کو منسلک کرنے والے ڈیجیٹل نظام کو معاونت مہیا کی جس کے ذریعے ایک لاکھ 10 ہزار بچوں کی پیدائش کا اندراج ممکن ہوا۔
تعلیمی بحالی اور فنی تربیت
تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔
گزشتہ سال یونیسف اور شراکت داروں نے 7 لاکھ 29 ہزار سے زیادہ بچوں، نوعمر افراد اور نوجوانوں کو تعلیم اور مہارتوں کے پروگراموں تک رسائی دی۔ علاوہ ازیں، تقریباً 36 ہزار اساتذہ کو تدریسی معیار بہتر بنانے کے لیے تربیت دی گئی۔
بنیادی تعلیم کی فراہمی کے اقدامات کے تحت 2 لاکھ 88 ہزار افراد تک رسائی حاصل کی گئی جن میں 54 ہزار بچوں نے ابتدائی حاصل کی۔
تقریباً 71 ہزار ایسے نوجوانوں کو خصوصی تعلیمی پروگراموں کے ذریعے دوبارہ سیکھنے کے عمل میں شامل کیا گیا جو کسی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ ترک کر چکے تھے
یاسمین بھی اس پروگرام سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں جنہوں نے ‘تیز رفتار تعلیمی راستہ’ نامی پروگرام کے تحت رسمی تعلیم کے ساتھ کپڑے سینے کی مہارت پائی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ہنر سیکھنے سے انہیں مالی طور پر خودمختار ہونے اور اپنے گھرانے کا معاشی بوجھ بانٹنے میں مدد ملی۔
گزشتہ سال اس پروگرام کے تحت یاسمین جیسے 71 ہزار سے زیادہ ایسے نوعمر افراد کو سکولوں میں لایا گیا جو تعلیم سے محروم تھے۔
صحت و زندگی کی حفاظت
پاکستان میں بچوں کو صحت اور غذائیت سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد سے زیادہ بچے جسمانی نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جبکہ نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح بھی انتہائی بلند ہے۔
2025میں یونیسف اور شراکت داروں کے اقدامات سے 4 لاکھ 37 ہزار بچوں کو نمونیا، اسہال اور دیگر عام بیماریوں کا علاج مہیا کیا گیا۔
ایک لاکھ 62 ہزار نومولود بچوں کو بہتر طبی نگہداشت فراہم کی گئی جبکہ تین لاکھ 4 ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کا علاج فراہم کیا گیا۔
مقامی سطح پر مہمات کے ذریعے تین کروڑ 73 لاکھ بچوں کو وٹامن اے کی خوراک مہیا کی گئی۔ یہ اقدام نچلی سطح پر سرگرم طبی کارکنوں کی محنت اور لگن کی بدولت ممکن ہوا جس میں عظمت رسول بھی شامل ہیں جو بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔
عظمت کہتی ہیں کہ ویکسین سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور شکوک و شبہات کے ماحول میں لوگوں کو بھروسہ دلانا ان کے کام کا سب سے اہم حصہ ہے۔ ماں ہونے کے ناطے انہوں نے ہمدردانہ جذبے اور صبر و سکون سے کام لیتے ہوئے پولیو مہم کے اہداف کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالا۔
یونیسف کی معاونت سے چلائے جانے والے انسداد پولیو پروگرام کے تحت گزشتہ سال ایسے بچوں کی تعداد میں 27 فیصد کمی آئی جنہیں کبھی بھی معمول کی ویکسین نہیں ملی تھی۔
اس وقت ملک بھر میں عظمت جیسے 4 لاکھ سے زیادہ پولیو کارکن یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ کوئی بچہ ویکسین محروم نہ رہ جائے۔
موسمیاتی مسائل کا حل
پاکستان کے بچوں کو لاحق مسائل صرف صحت اور تعلیم تک محدود نہیں بلکہ سیلاب، خشک سالی اور سخت گرمی و سردی کی لہریں بھی ان کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔
گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور کم از کم 275 بچوں کی جانیں گئیں۔
اس موسمیاتی دھچکے سے نمٹنے کے لیے یونیسف نے صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کی خدمات میں سرمایہ کاری کی جن سے 12 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔ آٹھ لاکھ 65 ہزار افراد کو صاف پانی تک رسائی میسر آئی اور 500 علاقوں میں لوگوں کو بیت الخلا کی سہولت مہیا کی گئی۔
شمالی پہاڑی علاقوں میں پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مصنوعی گلیشیئر بنانے کی روایتی کوششوں کا احیا کیا گیا جن میں سکردو سے تعلق رکھنے والے ذیشان عباس نے بھی حصہ لیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کے اجداد فطرت اور اس کے اصولوں کو سمجھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ وہ علم کھو گیا۔ اب جب موسمیاتی تبدیلی لوگوں کے طرز زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہے تو لوگوں نے اس علم سے دوبارہ رجوع کیا ہے۔ اب یہ صرف بقا کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری کی پوری آبادیوں کو بدلتے ماحول کے مطابق ڈھالنے کا معاملہ بن گیا ہے۔
غریب گھرانوں کا سماجی تحفظ
یونیسف نے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی مدد مہیا کی۔ گزشتہ سال اس ضمن میں ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں ‘بینظیر انکم سپورٹ پروگرام’ کے لیے مالی وسائل میں 20 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس کا حجم 716 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس پروگرام کے تحت غریب گھرانوں کو نقد امداد فراہم کی جاتی ہے۔
وسائل میں اضافے کے نتیجے میں 10 لاکھ خواتین کو مدد تک رسائی ملی جبکہ دو لاکھ 53 ہزار افراد کو ڈیجیٹل اور مالی خواندگی کی تربیت دی گئی۔
سندس بی بی کے لیے یہ زندگی بدل دینے والا تجربہ تھا۔ یونیسف کی معاونت سے حاصل ہونے والی مالی خواندگی کی بدولت انہیں اپنی رقم کو سنبھالنے اور اسے موثر طریقے سے خرچ کرنے کے بارے میں آگاہی ملی۔ اسی طرح، عالیہ اور سمیرا کو اس پروگرام نے اعتماد کا احساس دیا اور اب وہ خود کو مالی طور پر بااختیار محسوس کرتی ہیں۔
اشتراک عمل کے مثبت نتائج
یونیسف کی یہ رپورٹ اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں بچوں کو درپیش مسائل باہم پیوسط ہیں۔ غذائی قلت، تعلیمی پسماندگی، صحت کی ناقص سہولیات اور تحفظ کے مسائل عموماً غربت، عدم مساوات اور کمزور نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اسی لیے ادارہ انہیں حل کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر زور دیتا ہے جس کے ذریعے مختلف شعبوں میں بیک وقت کام کر کے دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، مالیاتی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی لوگوں کے تعاون کو گزشتہ سال حاصل ہونے والی کامیابیوں کا اہم سبب قرار دیا گیا ہے۔ ۔
اگرچہ یہ کامیابیاں امید افزا ہیں، لیکن رپورٹ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتی ہے کہ ابھی بہت سا کام باقی ہے جبکہ معاشی اور موسمیاتی دباؤ ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھنا 11 کروڑ سے زیادہ بچوں کے ملک میں صرف ایک ترقیاتی ہدف نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو پاکستان کے لیے ایک عظیم موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔









