نیب بلوچستان نے 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرالی

23

قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان اور حکومت بلوچستان نے سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زمین واگزار کرا لی ہے، جس کی مجموعی مالیت 1,784 ارب روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق مستقبل میں غیر قانونی قبضوں کی روک تھام کے لیے جدید ریکارڈ سسٹم، ڈیجیٹلائزیشن اور مؤثر مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ گوادر کی اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔نیب بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ کارروائیاں نیب ہیڈکوارٹر کی ہدایات اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی رہنمائی میں صوبائی حکومت، محکمہ مال اور محکمہ جنگلات کے تعاون سے عمل میں لائی گئیں۔ کارروائیوں کا مقصد سرکاری زمینوں کا تحفظ، غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ اور شفاف احتساب کے عمل کو مضبوط بنانا ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران جنگلاتی اراضی کی جانچ پڑتال کے وقت یہ انکشاف ہوا تھا کہ محکمہ جنگلات کی تقریباً 28 لاکھ ایکڑ اراضی کے انتقال کا باقاعدہ سرکاری ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اس صورتحال کے بعد چیئرمین نیب کی ہدایات پر تحقیقات اور واگزاری مہم کا آغاز کیا گیا۔

نیب کے مطابق سال 2025 میں 10 لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری زمین واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 1,370 ارب روپے تھی، جبکہ سال 2026 میں مزید کارروائیوں کے دوران کوئٹہ، سبی، شیرانی، حب، لسبیلہ اور گوادر میں تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 414.2 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ میں 47 ہزار ایکڑ اراضی (354 ارب روپے)، سبی میں 2,861 ایکڑ (2.3 ارب روپے)، شیرانی میں 15 ہزار ایکڑ (29 ارب روپے)، حب میں 153 ایکڑ (50 کروڑ روپے)، لسبیلہ میں 17 ہزار ایکڑ (2.2 ارب روپے) اور گوادر میں ایک لاکھ 76 ہزار ایکڑ اراضی (25 ارب روپے) واگزار کرائی گئی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس مہم کی کامیابی میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان، محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ اداروں نے اہم کردار ادا کیا اور بین الادارہ تعاون کے باعث وسیع پیمانے پر کارروائیاں ممکن ہو سکیں

۔نیب بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کرپشن اور قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور ریاستی اراضی پر غیر قانونی قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے کے مطابق باقی ماندہ سرکاری اراضی کی واگزاری بھی ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے۔اعلامیے کے مطابق واگزار کرائی گئی زمین محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے حوالے کی جا رہی ہے تاکہ اسے عوامی مفاد اور ماحول دوست منصوبوں کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں