تاجر اور ٹرانسپورٹرز کا حکومت کو قومی شاہراہوں کو پانچ روز میں سفر کیلئے محفوظ بنانے کا الٹی میٹم

43

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے مسافر کوچز، مزدا اور گڈز پرچون ایسوسی ایشن کے صدور حاجی دولت خان لہڑی، حاجی نور جان شاہوانی، محمد ابراہیم نیچاری، داد اللہ آغا، سہیل خان کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، میر یاسین مینگل کے ہمراہ بلوچستان کی شاہراہوں پر مال بردار اور مسافر کوچز کو جلانے، فائرنگ کرنے، ڈرائیوروں،کنڈیکٹر کی قتل و غارت اور مسافروں کو زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے 5 روز میں قومی شاہراہوں کو سفر کے لئے محفوظ نہ بنایا تو ہم تمام تنظیمیں متحد ہوکر احتجاجی تحریک شروع کریں گی۔

جس میں پہیہ جام، شٹر ڈاؤن ہڑتال کے علاوہ دیگر احتجاج کے راستے اختیار کئے جائیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں سعد اللہ اچکزئی، روزی خان مندوخیل، حاجی ظاہر شاہ یوسفزئی سمیت دیگر کے ہمراہ جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ کئی عرصے بد امنی کی صورتحال بگڑھتی جارہی ہے آئے روز ٹرانسپورٹروں جس میں پبلک ٹرانسپورٹ، مسافر کوچز، مال بردار ٹراکوں، بوزرز، آئل ٹینکروں، مزدا گاڑیوں پر فائرنگ،لوٹ مار اور انہیں جلانے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔

ہم متعدد بار میڈیا کے ذریعے ان سنگین حالات کے حوالے سے صوبائی حکومت اور حکام بالا کو آگاہ کرتے رہے ہیں اور گزشتہ دنوں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تھی لیکن اس سلسلے کا سدباب نہیں کیا گیا جبکہ حکومت نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ تفتان، کوئٹہ جیکب آباد، تفتان پنجگور، کوئٹہ ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ ژوب سمیت بلوچستان کی تمام بین الصوبائی اور بین الاقوامی شاہراہوں کو سفر کے لئے محفوظ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

گزشتہ 25 روز کے دوران درجنوں گاڑیوں کو لوٹنے انہیں نذر آتش کرنے، ڈرائیوروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے اب تک 150 سے زائد مال بردار ٹرک، بوزر اور بسیں جلائی جاچکی ہیں۔

جن میں موجود درآمد شدہ ٹیکس ادا شدہ اربوں روپے مالیت کا سامان لوڈ تھا ہم نے حکومت کی تحریری اور زبان یقین دہانی پر اپنا احتجاج موخر کیا ہے بلوچستان کی معیشت کا انحصار، گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور مسافر کوچوں پر منحصر ہے جس کے ذریعے صوبے کی اشیاء خوردونوش اور دیگر سامان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں لیکن ان گاڑیوں کو بھی جلایا جانا اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہونے کی وجہ سے ہم اپنے لوگوں کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے جبکہ کوئٹہ سے کراچی، کوئٹہ سے اسلام بذریعہ ہوائی جہاز کرایہ 80 ہزار سے لیکر 1 لاکھ روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

لیکن حکومت اور متعلقہ حکام کی بے بسی ہمارے سامنے ہیں اگر 5 روز میں قومی شاہراہوں کو محفوظ بناتے ہوئے ٹرانسپورٹروں کو موثر سیکورٹی دیتے ہوئے اغواء کاری، بھتہ خوری، لوٹ ماری اور گاڑیوں کو جلانے والوں کے خلاف موثر کارروائی نہ کی گئی تو ہم مشاورت کے بعد احتجاج پر مجبور ہوں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ چیک پوسٹوں پر مال بردار گاڑیوں اور تاجروں کو تنگ کرکے بھتہ خوری کی جاتی ہے اس کا بھی تدارک کیا جائے ہمارا مطالبہ ہے کہ قومی شاہراہوں کو سفر کے لئے محفوظ بناتے ہوئے تاجروں، ٹرانسپورٹروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 116 سے زائد مال بردار ٹرکوں، بوزرز کو جلایا گیا متعدد کوچوں کو جلانے کے علاوہ ان پر فائرنگ کی گئی ہیں اور اب تک ان واقعات میں کوئی 20 سے زائد ڈرائیور، کنڈیکٹر اور شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں پانچ ڈرائیور بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس کا سدباب نہ کیا تو ہم احتجاج کے دوران پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ تمام احتجاج کے راستے اختیار کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں