بلوچستان کا اصل مسئلہ وہاں کے بلوچ سردار ہیں، کئی سردار دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

26

بلوچستان کا اصل مسئلہ وہاں کے بلوچ سردار ہیں، کئی سردار دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ صرف بلوچستان میں 31 ہزار 80 انٹیلی جنس آپریشنز کیے گئے، جبکہ رواں سال 28 خودکش حملے ہوئے جن میں بیشتر حملہ آور افغانی تھے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی نسبت مارے گئے دہشت گردوں کا تناسب 2.5 فیصد ہے۔ دہشت گردوں سے اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، وہ یا تو ہتھیار ڈال دیں یا پھر ہم انہیں ختم کر دیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ٹانک اور کراچی کے واقعات میں دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے تھا اور افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہیں؟ نہیں، بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔”

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے مطابق تمام معاملات بلا تفریق چلائیں گے تو یہ ہارڈ اسٹیٹ ہوگی، بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان اور نام ہے۔ بلوچستان کا اصل مسئلہ وہاں کے بلوچ سردار اور ایلیٹ طبقات ہیں۔ سردار چاہتے ہیں کہ 1000 ارب کے بجٹ میں سے انہیں حصہ ملے لیکن ہم نہیں دیں گے۔ سردار کہتے ہیں کہ اگر ہمیں حصہ نہیں دو گے تو ہم دہشت گردی کروائیں گے، جبکہ کئی سردار دہشت گردی کی کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں