ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث مریضوں کی مشکلات میں اضافہ

2

بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے جاری ہڑتال کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع اور دور دراز علاقوں سے علاج کی غرض سے آنے والے مریض شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز کی بندش اور طبی خدمات کے متاثر ہونے کے باعث سینکڑوں مریض اور ان کے اہل خانہ پریشانی اور بے بسی کی تصویر بن گئے ہیں۔

عوامی حلقوں، سماجی تنظیموں، قبائلی عمائدین اور شہری نمائندوں نے ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے جاری احتجاج اور ہڑتال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مطالبات کے لیے مریضوں کو مشکلات میں مبتلا کرنا کسی صورت مناسب عمل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں سے غریب اور نادار مریض کئی کئی گھنٹے سفر کرکے کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، تاہم ہڑتال کے باعث انہیں علاج معالجے کی سہولیات میسر نہیں آ رہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت ڈاکٹر ما نور ناصر کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہیں آس ناخوشگوار واقعے کے بعد ڈاکٹر ما نور ناصر کو فوری طور پر پیپلز ایر بس کے ذریعے آغا خان ہسپتال پہنچا یا گیا جہاں انہیں فوری ٹریٹمنٹ دے کر ان کی جان بچا لی گئی ہیں اور ملزم کو بھی جہنم واصل کر دیا گیا ہے آگے انتظامیہ اور ڈاکٹرز بیٹ کر حکمت عملی اپناے انہوں نے ڈاکٹر وں کے آس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف غریبوں کو علاج و معالجہ سے محروم رکھ رہے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنے مفادات کی خاطر پرایوئٹ کلینک کھلے رکھتے ہیں عوامی حلقوں کے مطابق ہسپتالوں میں سینئر شہری، خواتین، بچے اور ایمرجنسی نوعیت کے مریض بھی متاثر ہو رہے ہیں جبکہ متعدد مریضوں کو مایوس ہو کر واپس اپنے علاقوں کو لوٹنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کا شعبہ براہ راست انسانی جانوں سے جڑا ہوا ہے اور اس شعبے میں کسی بھی قسم کی ہڑتال کے اثرات عام لوگوں پر انتہائی منفی انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔شہریوں کا کہنا تھا کہ بلوچستان پہلے ہی صحت کی سہولیات کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں ہڑتالوں کے باعث عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مریضوں کے مفاد کو ہر صورت ترجیح دے کر فوری طور پر ہڑتال ختم کر دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں