بلوچستان ہائی کورٹ نے جوائنٹ روڈ سمیت اہم شاہراہوں پر نئی کمرشل سرگرمیوں اور تعمیرات کے خلاف دائر آئینی درخواست پر وفاقی و صوبائی حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریلوے حکام کے متنازع اشتہار کی کارروائی معطل کر دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک متعلقہ مقامات پر کسی قسم کی نئی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ احکامات چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نمبر ایک ریلوے ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی جوائنٹ روڈ کوئٹہ کے چیئرمین جبکہ درخواست گزار نمبر دو سوسائٹی کے کابینہ رکن ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ پہلے ہی 29 نومبر 2016 کو سی پی نمبر 824/2016 میں واضح احکامات جاری کر چکی ہے کہ انسکمب روڈ، زرغون روڈ، سمنگلی روڈ اور جوائنٹ روڈ سمیت نئی تعمیر شدہ سڑکوں پر مزید کمرشل سرگرمیوں اور دکانوں کی تعمیر پر مکمل پابندی ہوگی۔وکیل کے مطابق عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے میں ضلعی انتظامیہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور وفاقی و صوبائی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ ان شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے، تاہم پاکستان ریلوے کے بعض حکام نے مبینہ طور پر ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے جوائنٹ روڈ کے اطراف دکانیں، پارکنگ ایریاز اور دیگر تجارتی تعمیرات قائم کرنے کی اجازت دی، جس سے شدید ٹریفک جام اور عوامی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایت پر 28 اکتوبر 2024 کو ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں واضح فیصلہ کیا گیا کہ نئی تعمیر شدہ اور وسیع کی گئی شاہراہوں پر ہر قسم کی نئی کمرشل سرگرمی پر پابندی ہوگی۔ اس فیصلے کے باوجود ریلوے حکام نے ضلعی انتظامیہ کے خطوط کا جواب دینے کے بجائے دوبارہ ایک اشتہار جاری کر دیا، جس میں کوئٹہ جوائنٹ روڈ پر مکس یوز کمرشل منصوبوں، شاپنگ پلازہ، مارکیٹ، ہوٹل، ہسپتال، فوڈ آؤٹ لیٹس، کارپوریٹ دفاتر اور پیٹرولیم ڈیلرشپ سمیت مختلف تجارتی منصوبوں کے لیے بولیاں طلب کی گئیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مذکورہ اشتہار عدالت عالیہ کے سابقہ احکامات اور ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفکیشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ریلوے حکام کو مزید تجارتی سرگرمیوں سے روکا جائے کیونکہ اس سے سڑکوں کی توسیع اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کا بنیادی مقصد متاثر ہوگا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسکمب روڈ، زرغون روڈ، جوائنٹ روڈ، سبزل روڈ، سریاب روڈ، یونیورسٹی چوک تا سمنگلی روڈ، ایئرپورٹ روڈ، ریڈیو اسٹیشن تا ویسٹرن بائی پاس اور بادینی روڈ لنک روڈ پر نئی تجارتی تعمیرات اور دکانوں کو سیل بھی کیا جا چکا ہے اور ان علاقوں میں مزید کمرشل سرگرمیوں پر پابندی برقرار ہے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے جواب دہندگان کو نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے عبوری حکم کے طور پر 7 اپریل 2026 کے اشتہار میں شامل سیریل نمبر 17 اور 18، یعنی ‘‘کوئٹہ جوائنٹ روڈ (پلاٹ ای)’’ اور ‘‘کوئٹہ جوائنٹ روڈ’’ سے متعلق کارروائی معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ان مقامات پر کسی نئی تجارتی سرگرمی یا تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے جبکہ ڈی ایس پاکستان ریلوے کو جامع جواب کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔ مزید برآں، کیس کو 2016 کے سی پی نمبر 824 کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔









