پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بجٹ میں اربوں اور کھربوں کے اعدادوشمار رکھے جاتے ہیں بلوچستان میں ایک باپ دیکھتا ہے کہ میرے بیٹے بیٹی کو روزگار ملے گا یا گھر کا خرچ چلے گابجٹ میں عوام کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔
بلوچستان کے شہریوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے جووسائل سے مالا مال ہے مگر محرومیوں کا شکار ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کا بحران ہے بجٹ میں بنیادی مسائل کو اہمیت نہیں دی ہے ملک کے نوجوان سب سے بڑا سرمایہ ہیں معیشت بہتر ہو رہی ہے تو نوجوان بے روز گار کیوں ہیں بلوچستان کو آغاز حقوق پیکج تو دیا مگر مسائل کے حل کے لئے کوئی پیکج نہیں دیا گیا۔
بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے پچھلے سال آٹھ لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر گئے ہیں ہم نے اے آئی کو نظر انداز کیا اور یہ ہماری سب سے بڑی غلطی ہے حکومت سے مطالبہ ہے کہ اے آئی پالیسی کا اعلان کیا جائے ہوائی سفر کے لئے کرایوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے طریقہ کار بنایا جائے۔
گوادر کے نوجوان کو اس کی ترقی کا حق کب ملے گاترقی کا مطلب صرف منصوبے نہیں بلکہ روزگار، سکول اور بہتر زندگی ہے۔









