بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے حکومت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں فارم 45 پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیر اعلیٰ کی حکومت ختم کرکے گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5اکتوبر کے لانگ مارچ کی بھر پور حمایت کرتے ہیں بلوچستان میں حکومت کی رٹ نہیں باغات کو کاٹنے سے لوگوں کو بے روزگار کرکے نان شبینہ کا محتاج بنایا جارہا ہے یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، موسیٰ جان بلوچ، ٹکری شفقت لانگو، شکیلہ نوید دہوار، احمد نواز بلوچ، میر عبدالوحید لہڑی، میر مقبول لہڑی ،شمائلہ اسماعیل ، صمند بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2024ء کے انتخابات کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں متنازعہ اسمبلیاں بنیں صوبہ خیبر پختونخوا کی واحد اسمبلی وزیر اعلیٰ اور حکومت عوامی نمائندوں کے ذریعے معرض وجودمیں آئی ور وہ عوامی نمائندوں پر مشتمل ملک میں جائز حکومت اور اسمبلی ہے نہوں نے کہا کہ روز اول سے ہی بلوچ اور پشتون سرزمین ہمیشہ زیرعتاب رہے ہیںاور گزشتہ 77 سالوں سے یہاں پر لوگوں کو مختلف مسائل میں الجھائے رکھا ہے جس طرح ملک کو چلایا جارہا ہے وہ درست عمل نہیں کیونکہ پاکستان کو معرض وجود میں لاتے وقت 1940ء کی قرار داد حوالہ دیا جاتا ہے جس کی روح سے تمام قومیتیں خود مختار ہوں گی ان کا مینڈیٹ ہوگا لیکن ایسا کچھ نہیں 4 کروڑ رعوام کی منتخب کردہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور وزیراعلی کو دہشتگرد اور سیکورٹی رسک قرار دیا جارہاجو درست عمل نہیں انہوں نے کہا کہ اسی طرح سردار عطاء اللہ مینگل کی پہلی منتخب حکومت کو بھی 8ماہ سے زیادہ چلنے نہیں دیا گیاآج بھی یہ سازشیں تواتر کے ساتھ چل رہی ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری جماعت ایک منتخب وزیراعلی کو نااہل کیئے جانے کے اقدام کی مذمت کرتی ہے تحریک انصاف جو بھی احتجاج کا فیصلہ کرتی ہے ہم اسکی حمایت کریں گے اگر خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اسکی مخالفت کرتے ہیںپاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی میثاق جمہوریت کی بات کرتے تھے آج وہ میثاق جمہوریت کہاں ہی جس طرح 26ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آئین کا حلیہ ہی بھگاڑ دیا گیااس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی عمران خان کی حکومت اور پاپولر پارٹی ہے جو مکمل طور پر اکثریت کے ساتھ الیکشن جیت چکی ہے حکمران تاریخ سے سبق سیکھیں،70 میں جو بنگالیوں کیساتھ کیا گیا آج نتائج سب کے سامنے عیاں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کی بلوچستان میں 85 فیصد حکومتی رٹ موجود نہیںان کی رٹ صرف ریڈ زون تک محدود ہے جس کا واضح ثبوت بلوچستان میں ٹرانسپورٹ ، روڈ ، کاروبار ، بارڈر بند جبکہ ہوٹلوں کو تباہ کرکے باغات ختم کیئے جارہے ہیںجو کسی مسئلے کا حل نہیں اس کی وجہ سے علاقے میں بے روزگاری اور لوگوں کی نفرت بڑھ رہی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔









