وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ واشک میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کو کس بلوچ روایات کے تحت قتل کیا گیا یہ عمل بلوچستان کی روایات اور رواداری کے بالکل خلاف ہے۔پیر کو شہید سراج رئیسانی کی آٹھویں برسی پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے ان کی خدمات اور قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ سراج رئیسانی نے پاکستان کے پرچم کو ہر جگہ لہرایا اور ان کی قربانی کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ آج دشمن نے بلوچستان اور پاکستان کے خلاف نئی سازش شروع کر رکھی ہے، مگر ہم سب مل کر ان شرپسندوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے شفیق مینگل کے گھر پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر بزدلانہ طریقے سے حملہ کیا ہے، جو ان کی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے مانگی ڈیم اور اوڑک میں شہید جوانوں کو سرخرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قوم کے حقیقی محسن ہیں جن کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔واشک واقعہ پر سخت سوال پر وزیر اعلی نے کہا کہ واشک میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کو کس بلوچ روایات کے تحت قتل کیا گیا انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل بلوچستان کی روایات اور رواداری کے بالکل خلاف ہے اور ریاست اس کی مذمت کرتی ہے، بلوچستان میں ہر شہری، چاہے وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، محفوظ رہے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
زیارت واقعے پر انہوں نے کہا کہ زیارت حملے کے بعد وہاں سب سے پہلے ہم پہنچے، اوڑک میں بھی میں کل گیا تھا انہوں نے زیارت واقعہ کے شہدا کا وارث ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، آپ شہدا کی میتیں دفنا دیں، میں ان کا وارث ہوں۔ اس بیان سے تقریب میں موجود شرکا میں جوش و خروش پیدا ہوا۔ وزیر اعلی نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر مکمل طور پر متحرک ہے۔
انہوں نے سراج رئیسانی کی یاد کو زندہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مشن آج بھی قائم ہے اور ہم سب کو اسی مشن پر چلنا چاہیے۔وزیر اعلی سرفراز بگٹی نے تقریب کے اختتام پر تمام شہدا کے لیے دعا کی اور کہا کہ بلوچستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہیں تاکہ دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔ یہ تعزیتی ریفرنس بلوچستان میں قومی اتحاد، دہشت گردی کے خلاف مکمل جنگ اور سراج رئیسانی جیسے عظیم لیڈروں کی قربانیوں کی یاد کو تازہ کرنے کا اہم موقع ثابت ہوئی۔









