بلوچستان میں دیر پا امن کیلئے ایف سی کو نکا لنا ہو گا ، مولا نا ہدایت

29

امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں قیامِ امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دیرپا استحکام کے لیے ایف سی کوبلوچستان سے نکالنا لیویزفورس کوبحال کرناہوگا۔

جماعت اسلامی بلوچستان میں ایف سی کونکالنے، عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے صوبہ بھر میں عوامی ریفرنڈم کرائے گی۔ ایف سی پر ہر سال قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود عوام بدامنی، خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیویز فورس کو فوری طور پر مکمل اختیارات، وسائل اور جدید سہولیات فراہم کرکے مؤثر بنایا جائے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹریٹ میں مختلف وفود سے ملاقات اور ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے روز نوجوانوں کی لاشیں مل رہی ہیں، دہشت گردی اور بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،

جبکہ عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، لیکن اس حوالے سے متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان میں امن کے قیام،

عوامی حقوق کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری، آئینی اور قانونی فورم پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ ناروا سلوک، تذلیل، لوٹ مار، بھتہ خوری اور دیگر شکایات کے باعث عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے،

جس کے پیشِ نظر جماعت اسلامی عوامی رائے جاننے کے لیے جلد صوبہ بھر میں ریفرنڈم کا انعقاد کرے گی۔مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ زیارت دھرنا عوام، سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کی مشترکہ جدوجہد ہے،

جو اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زیارت دھرنے کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں