ایران کا امریکہ سے مذاکرات سے انکار، صدر ٹرمپ کی درخواست پر فیلڈمارشل عاصم منیر ایران کومنانے ایران میں موجود ہیں۔ اس حد تک آسودگی کہ پاکستان کا کمانڈر ان چیف آج کے دن خطہ ارضی کے سب سے اہم آرمی چیف ہیں ۔ مگر کیا وہ ایران کو واپس مذاکرات کی میز پر لا پائیں گے ؟ میرا خیال ہے بہت مشکل اور بالفرض محال ایران مان بھی گیا تو امریکہ کو کسی نئی دھوکہ دہی کی واردات سے کیسے روکا جائے گا ؟
ڈونلڈ ٹرمپ جانتا ہے کہ وہ جنگ ہارچکا ہے ۔ ڈیموکریٹس لازماً کانگریس کے انتخابات 3نومبر 2026 ءجیت جائیں گے ، ایک قطعی حقیقت ہے ۔ اگر ڈیموکریٹس کانگریس اور سینٹ کا الیکشن اکثریت سے جیتتے ہیں تو صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذہ کی کارروائی پکی اور ساتھ جیل بھی جانا ہوگا ۔ صدر ٹرمپ ایک چوراہے پر، اسکو خود بھی نہیں معلوم کہ اُسے کیا چاہیے؟ حالیہ بیان کہ جنگ جلد ختم ہوجائے ، کیا واقعی جنگ ختم ہونے کو ہے ؟ یا صرف ایک بیانیہ بیچا جا رہا ہے ؟ صدر ٹرمپ نے FOX نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنگ تقریباً ختم ہے۔ اسی سانس میں فرما گئے کہ اگر جنگ بندی ہو بھی گئی تو ایران کو دوبارہ کھڑا ہونے میں بیس سال لگ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات سے تعین کرنا مشکل کہ انکے بیانات جنگ واقعی ختم کرنے کیلئے زمین ہموار کر رہے ہیں یا مزید حملوں کی تیاری ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کےمطابق امریکہ خلیج فارس اور خلیج عمان میں اپنی فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ۔ ہزاروں مزید فوجی بھیجے جا رہے ہیں ۔ تقریباً چھ ہزار اہلکار طیارہ بردار جہاز USS جارج بش بیڑہ پر سوار ہیں، 10 ہزار مزید فوجی اور MARINE روانہ ہو چکے ہیں جو دو ہفتوں میں پہنچ جائیں گے ۔ کیا امن کے حصول کیلئے فوجیں بڑھائی جاتی ہیں ؟
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے۔ جو اب ایران کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنی پسند کے ممالک چین ، پاکستان ، بھارت ، عراق کو راستہ دے رہا ہے۔ایران کی جزوی ناکہ بندی کے مقابلےمیں امریکہ بھی ناکہ بندی کی کوشش میں مصروف ہے ۔ اس پر چین کا سخت ردِ عمل سامنے آچکا ہے۔ چینی وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جُن نے امریکہ کو سُنا دیا ہے کہ ہمارے اور ایران کے درمیان تجارت میں مداخلت نہ کریں۔ چینی بحری بیڑوں کی آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔ چین نے اپنے مخصوص انداز میں چیلنج کر دیا ہے ۔ کیا یہ جنگ مزید پھیل سکتی ہے ؟ سوال بنتا ہے کہ امریکہ ایران کی ناکہ بندی سے چاہتا کیا ہے؟
کیا امریکہ آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوشش کرئیگا ؟ ایسی کوئی کوشش جنگ کو خطرناک حد تک بڑھا دے گی ۔ ایران کے پاس امریکہ کیخلاف بہت سے آپشنز ہیں ، جو الماریوں اور شیلفوں میں بند ، ابھی استعمال میں نہیں ۔ خلیج فارس کی حد تک ایران کے محدود فاصلے کے میزائل، ڈرونز اورا سپیڈ بوٹس ہی امریکہ کا کثیر تعداد میں نقصان کر دیں گی ۔ باوجودیہ کہ گفتگو کا ماحول بن رہا ہے اور جنگ بندی میں شاید توسیع بھی ہو جائے لیکن امریکہ کیلئے ’’نہ پائے رفتن ، نہ جائے ماندن ‘‘۔ امریکہ اگر جنگ کو بڑھاتا ہے تو بغیر کسی فائدے کے پوری دنیا معاشی بحران کی لپیٹ میں اور جنگ بند کرتا ہے اور ایران کسی قسم کی فیس سیونگ بھی نہیں دیتا تو خانہ بربادی مقدر بننی ہے ۔
جنگ اب ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں بلکہ یہ ایک بڑے جغرافیائی کھیل میں بدل چکی ہے ۔ایک ہی انٹرویو میں صدر ٹرمپ متضاد موقف دیتے ہیں ، بدلتے ہیں ۔ غیریقینی صورتحال خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے ۔ مجھے خدشہ ہے کہ جنگ کو ختم کرنے کے تمام راستے ایک ایک کرکے بند ہو رہے ہیں ۔
تین چیزیں اگرچہ میڈیا پر الگ الگ مگر حقیقتاً ایک کہانی کے تین حصے ہیں ۔ پہلا حصہ : ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر عبداللّٰہ علی کا دو ٹوک بیان کہ’’ خلیج فارس اور خلیج عمان میں سیکورٹی سب کیلئے یا کسی کیلئے نہیں ہوگی‘‘۔ اگر ایران کی بندگارہ غیرمحفوظ رہی یا ناکہ بندی جاری رہی تو پھر خطے کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ یعنی دبئی، ابو ظہبی، دوحہ، کویت ، حتیٰ کہ سعودی عرب کا سب سے بڑا آئل ٹرمینل راس تنورہ ایران کے نشانے پر ہوگا ۔ یہ ایک فوجی دھمکی سے بڑھ کرایک اسٹرٹیجک پیغام تھا ۔
دوسری چیز : ایرانی کمانڈر کی اس دھمکی کا آج کی تاریخ تک امریکہ نے کوئی واضح جواب نہیں دیا ۔ نہ کوئی پریس کانفرنس اور نہ ہی کوئی براہِ راست ردِعمل، نہ کوئی باضابطہ فوجی مؤقف ۔
تیسری اور سب سے اہم بات کہ ایران کا یہ اعتماد کہاں سے آیا ؟ ایک ایسا ملک جسکے رہنما مارے گئے، جوہری تنصیبات پر بمباری ہوئی، فوجی ڈھانچہ تباہ ہوا، وہ آج بھی کھڑا ہو کر امریکہ کو للکار رہا ہے کہ خطے کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی ؟ اسکی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایران کے پیچھے چین بدرجہ اتم موجود ہے ۔ لیکن چین کو براہِ راست جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں ، وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور مؤثر کام میں مصروف ہے ۔ چین کے اسٹرٹیجک سہارے نے طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ جنگ اب صرف ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں بلکہ پورے خلیجی خطےکے استحکام کا مسئلہ بن چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ ختم ہو رہی ہے یا نہیں؟ اب اصل سوال یہ ہے کیا جنگ پھیلنے جا رہی ہے ؟
چنانچہ اچنبھے کی بات نہیں کہ آج خلیجی ممالک اپنی بندرگاہوں کو بچانے کیلئے ایران سے الگ الگ معاہدے کر رہے ہیں ۔ امریکہ کا بیانیہ یا صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان کہ ایران ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر ، کویت ، بحرین ، عمان کی سیکورٹی کا امریکہ ضامن ہے ۔ عملاً تمام ممالک کی سیکورٹی کیلئے امریکہ خطرہ بن چکا ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک خصوصاً خلیجی ممالک امریکہ سے علیحدہ ہوکر جائے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں اور یہی وہ دراڑ ہے جسے ایران مزید گہرا کر رہا ہے ۔
امریکی ناکہ بندی نے ایرانی معیشت کو دوزانو کرنا تھا ، جبکہ چین کی اقتصادی آکسیجن نے ایران کا حوصلہ بلند کر رکھا ہے ۔ چنانچہ ایران اب صرف دفاع نہیں بلکہ للکار رہا ہے ۔ اگر ہم محفوظ نہیں تو پورے خلیج کی بندرگاہیں غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ اس کے نتائج برداشت کر سکتا ہے اور یہ سب کچھ ایران کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ اور عملی مظاہرہ ہے ۔ امریکہ کیلئے خطرناک پہلو کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق چین نے ایران کو مہلک ہتھیاروں سے لیس کر رکھا ہے ۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ نے نیاتہلکہ مچا دیا ہے کہ ایران نے جنگ میں چین کا جاسوس سیٹلائٹ استعمال کیا ۔ میرے نزدیک یہ خبر نئی نہیں ، یہ سیٹلائٹ، جسے TEE-01B کہا جاتا ہے، 2024 کے آخر میں چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس ونگ کے حوالے کیا گیا۔ لیک ہونے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو مختلف امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کیلئے استعمال کیا، خاص طور پر ان حملوں سے پہلے اور بعد میں جو مارچ میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔
آؤ دُعا کریں سب مل کر کہ اللّٰہ تعالیٰ صدر ٹرمپ کو جنگ سے نکلنے اور شکست کو تسلیم کرنے کا حوصلہ دے کہ ایران جنگ جیت چکا ہے ۔ یہ نہ ہو کہ صدر ٹرمپ اپنے ساتھ ایک عالم کو لے ڈوبے ۔









