زیارت میں دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے دھرنے کو 8دن مکمل، حکومت اور دھرنا کمیٹی میں مذاکرات کا سلسلہ جاری، آج صوبے بھر میں شٹرڈائون ہڑتال کی کال ۔ تفصیلات کے مطابق زیارت کے علاقے مانگی میں ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن سے اغواء کے بعد شہید کیے جانے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین، سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور زیارت کے عمائدین کا دھرنا کوئٹہ کے کوئل پھاٹک کے مقا م پر 8ویں روز بھی جاری رہا ۔
اس دوران شہریوں ، سیاسی رہنمائوں سمیت دیگر افراد کی بڑی تعداد نے دھرنے میں شرکت کر کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا ۔ جمعرات کو حکومت اور دھرنا کمیٹی ، لواحقین کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور منعقد ہوا۔
جس میں حکومت کی جانب سے صوبائی وزراء میرضیاء اللہ لانگو، بخت محمد کاکڑ، میرسلیم کھوسہ،میرعاصم کرد گیلو ،سینیٹر منظور کاکڑ،بلال کاکڑ جبکہ دھرنا کمیٹی کے جانب سے عبدالرحیم زیارتوال، اصغر خان اچکزئی، آغاحسن بلوچ، مولانا قادر لونی سمیت دیگر نے شرکت کی ۔
حکومتی وفد اور سانحہ زیارت کے لواحقین اور دھرناکمیٹی میں مذاکرات اور بات چیت کے دوران پانچ نکات کو حتمی شکل دی گئی جس کے بعد حکومتی کمیٹی وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے ملاقات اور مشارت کے لیے روانہ ہوگئی ۔دوسری جانب زیارت میں دہشتگردی کے واقعہ کے خلاف آج جمعہ کو صوبے بھر میں دھرنا کمیٹی اور سیاسی جماعتوںکی کال پر شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دی گئی ہے ۔تاجروں ،سیاسی جماعتوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے کاروبار آج بند رکھیں ۔









