بلوچستان پولیس میں ایس پی رینک سے لیکر سپاہی سمیت (ڈی ایس پی)اور مختلف شعبہ جات کے کلریکل اسٹاف کی ہزاروں اسامیاں گزشتہ کئی عرصے سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث محکمہ پولیس کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنے اور اہلکاروں پر کام کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق خالی اسامیوں کی وجہ سے تھانوں، ٹریفک، تفتیشی و انتظامی امور سمیت مختلف شعبوں میں فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کو موجودہ حالات میں اضافی ذمہ داریاں نبھانا پڑ رہی ہیں، جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عوامی سروسز کے امور کی انجام دہی بھی متاثر ہوتی ہے دوسری جانب پولیس اہلکاروں میں گزشتہ سال سے ترقیوں کے عمل میں تاخیر پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
اہلکاروں کا کہنا ہے کہ متعدد ملازمین مقررہ سروس، تجربہ اور دیگر ضروری شرائط پوری کرنے کے باوجود ترقیوں کے منتظر ہیں۔ حکام بالا کی عدم توجہی کی وجہ سے عمل تاخیر کا شکار ہے ان کا موقف ہے کہ بروقت ترقی ہر ملازم کا حق ہے اور اس سے فورس کا مورال بلند ہوتا ہے جبکہ بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔پولیس اہلکاروں نے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی،انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ پولیس میں خالی اسامیوں پر فوری بھرتیوں اور ترقی کا عمل شروع کیا جائے تاکہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
اور کسی بھی ملازم کی حق تلفی نہ ہو گزشتہ سال سے زیر التوا ترقیوں کے کیسز کو جلد از جلد نمٹا کر اہلکاروں کو ان کا جائز حق دیا جائے۔اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان پولیس دہشت گردی، جرائم کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے دن رات خدمات انجام دے رہی ہے۔
فورس کے جوان مشکل حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، لہذا ان کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل اور فلاح و بہبود کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
پولیس حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ خالی اسامیوں کو پر کرنے اور ترقیوں کے عمل کو تیز کرنے سے نہ صرف فورس کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا بلکہ اہلکاروں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے، جس کے مثبت اثرات عوامی خدمت اور امن و امان کی صورتحال پر پڑیں گے۔
ذرائع کے مطابق ایس پی کی 88، ڈی ڈی 20، ڈی ایس پی 96، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر 42، انسپکٹر 98، پراسیکیوٹر انسپکٹر 23، سب انسپکٹر 247، آفس سپرنٹینڈنٹ 28، اسسٹنٹ 96، سینئر کلرک 18، جونیئر کلرک 339،اسسٹنٹ سپروائزر 30، اردلی 500، اسسٹنٹ سب انسپکٹر 877، ہیڈ کانسٹیبل 365، کانسٹیبل 2280 اسامیاں خالی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کامن کورس کرنے والے وفاقی ملازمین کو بلوچستان میں ایک سال تعینات کرنے کے احکامات دیئے گئے تھے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا اور کچھ ایسے آفیسران کو بلوچستان تعینات کیا گیا جن کی مدت ملازمت بہت کم تھی اس اقدام سے وفاقی حکومت، وفاقی اداروں کی بلوچستان کے سنگین حالات کی بہتری اور صورتحال کے حوالے سے سنجیدگی کا علم ہورہا ہے کیونکہ پولیس کا مینڈیٹ دہشت گردی سے نمٹنا نہیں اور نہ ہی ان کی ایسی تربیت ہے دہشت گردی سے نمٹنا متعلقہ اداروں اور فورسز کا ہے۔









