عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں سرکاری ملازمتوں کے لئے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیوں کے عمل میں مسلسل تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کمیشن کے ذریعے بھرتیوں کا عمل فوری طور پر بحال کیا جائے اور سال 2026-27 کے لیے جنرل ایج ریلیکسیشن نوٹیفکیشن کا اجراء بلا تاخیر یقینی بنایا جائے بلوچستان کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے بلوچستان پبلک سروس کمیشن سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں تاہم گزشتہ تقریباً تین ماہ سے کمیشن کی جانب سے کسی نئی آسامی کا اشتہار جاری نہ ہونے کے باعث نوجوانوں میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے صوبے میں پہلے ہی روزگار کے محدود مواقع کے باعث تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سرکاری اداروں میں موجود خالی آسامیوں پر بروقت بھرتی نہ ہونے سے ان کے لیے ملازمت کے مواقع مزید محدود ہو رہے ہیں بیان کے مطابق بلوچستان کے مختلف سرکاری محکموں میں متعدد اہم اور خالی آسامیاں تاحال بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اشتہار کی منتظر ہیں ان آسامیوں میں محکمہ زراعت کی زراعت افسر (BPS-17) کی 104 آسامیاں بھی شامل ہیں جن پر بھرتیوں کا عمل شروع نہ ہونے کے باعث متعلقہ شعبے سے وابستہ اہل اور تعلیم یافتہ امیدواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کمیشن کے ذریعے بھرتیوں کا عمل فوری طور پر بحال کیا جائے ،اے این پی
26









