سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اپوزیشن حکومت کی اتحادی ہے،پیسوں کے عوض اسمبلی کی نشستیں خریدنے والوں کو ڈوب مرنا چائیے،صوبے کے لوگ آئندہ نسلوں کی بقاء کیلئے فارم 47 کے سامنے کھڑے ہوں، اپنے قومی وطن کی تقسیم ہونے دیں گے نہ ہی وسائل کی لوٹ مار پر خاموش رہیں گے،
سیاسی عمل کا حصہ نہ بننے کا مطلب مادر وطن کی لوٹ مار کو دیکھتے ہوئے تماشائی بنے رہنا ہے ، قومی وطن کے لوگ تماشائی نہیں وطن کے مالک اور اسٹیک ہولڈرز بنیں، یہ بات انہوںنے جمعہ کے روز قومی رابطہ مہم کے سلسلے میں خدائیداد روڈ پر منعقدہ ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجتماع سے سابق وفاقی وزیر میرہمایوں عزیز کرد، واجہ عمر جان بلوچ ،قاری اختر شاہ کھرل نے بھی خطاب کیا، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ ماضی کا چھوٹا لندن ،شیرانی سے تفتان، جیونی سے کوہ سلمان تک قومی وطن آج بدحالی، بدترین حالات سے گزررہا ہے اورحقیقی سیاسی کارکن اس سرزمین پر بسنے والے لوگ اپنی آئندہ بقاء کیلئے پریشان ہیں،
اپنی آئندہ بقاء کیلئے فکر مند لوگوں اور ہم نے ملکر یہ سوچاکہ اس سرزمین کے طول وعرض میں قومی رابطہ مہم شروع کریں تاکہ ایک مشترکہ پرامن سیاسی آواز کے ذریعے سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے آج کایہ اجتماع بھی اس تسلسل کی ایک کڑی ہے تاکہ ہم اکھٹے ہوکر یہ سوچیں کہ جس سرزمین پر ہمارے آبائو اجداد نے باعزت زندگیاں گزاریں اس سرزمین کیخلاف کون سی اندرونی اور بین الاقوامی سازشیں ہورہی ہیں تاکہ ہم ملکر اس سرزمین کو بحرانوں سے نکالیںاوراپنے آنے والے دنوں کا تعین کریں،
انہوںنے کہاکہ بلوچستان کی پرامن سماجی تاریخی حیثیت کو برباد کرنے کیلئے سازش کے تحت یہاں سیاسی جمہوری عمل کا راستہ روک کر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا ہے ایسے میں ہماری قومی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوا کہ سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سیاسی عمل کو آگئے لیکر بڑھتے ہوئے آئندہ نسلوں کیلئے ایسا نظام مرتب کریں جس کے تحت ہماری نسلیں باعزت ،پرامن طریقے سے اپنی زندگی کے اصولوں اورترقی خوشحالی اور وقار کیلئے منزل کا تعین اور سفر کا آغاز کریں،
انہوںنے کہاکہ ریاست اور اس کے سہولت کار ہمارے سماج کو غیر سیاسی بنانے کے منصوبہ پر کام کررہے ہیں اور اس منصوبے کیخلاف ہم نے یکجا ہونا ہے،
انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں کوئی اپوزیشن نہیں، اپوزیشن حکومت کی خاموش اتحادی ہے، پیسوں کے عوض اسمبلی کی نشستیں خریدنے والوں کو ڈوب مرنا چائیے آج جعلی قانون سازی کے تحت اس سرزمین کے وسائل کو لوٹا جارہاہے،
اظہار رائے اور سیاسی آزادی پر پابندی ہے، ڈی ایچ اے ایکٹ کے تحت قومی وطن کو الاٹ ، قانون کی سرپرستی میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت آئندہ نسلوں کی امانت، وسائل کو لوٹا جارہاہے ، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کرنے والی جماعتیں صوبے کے وسائل کو غیروں کے حوالے کرکے خود پی ایس ڈی پی کی لوٹ مار میں مصروف ہیں اب وقت ہے کہ اس سرزمین کے لوگ آئندہ نسلوں کی بقاء اور عزت کیلئے فارم 47 کے سامنے کھڑے ہوں نہیں تو لوٹ مار کا سلسلہ جاری رئیگا اور ہماری آئندہ نسلیں اپنی سرزمین پر باعزت زندگی نہیں گزار پائیں گی،
انہوں نے کہاکہ جس سرزمین کے لوگوں کے پیروں تلے سونا، چاندی، معدنیات ، آٹھ سو کلومیٹر ساحل سمندر ہے اس سرزمین کے لوگ درخواستیں ہاتھوں میں لیے نوکریاں تلاش کررہے ہیں،
انہوںنے کہاکہ انقلابی ہونے کا دعویٰ کرنے والے گروہ نے دانستہ یا غیر دانستہ ان لوگوں کو راستہ دیا جو اسمبلی میں بیٹھ کر لوٹ مارکررہے ہیں، سیاسی عمل کا حصہ نہ بننے کا مطلب مادر وطن کی لوٹ مار کو دیکھتے ہوئے بھی تماشائی بنے رہنا ہے اس وطن کے لوگ تماشائی نہیں وطن کے مالک اور اسٹیک ہولڈرز بنیں، اپنے قومی مستقبل کے دفاع کیلئے سیاسی عمل کا حصہ بنیں ، حقیقی سیاسی کارکن اپنی قیادت سے پوچھیں کہ جب مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس ،نجی ہوٹل میں بلوچستان کی قسمت کا فیصلہ ہورہا تھا۔
وہ کیوں خاموش تھے، سیاسی کارکن ، نوجوان، علماء ، اقوام، برادریاں ، مذہبی اقلیتیں اس سرزمین کا سودا کرنے والی سیاسی جماعتوں کا راستہ روکیں،سیاسی کارکن سیاسی عمل اور مکالمے کے ذریعے معاملات کا حل تلاش اورموجودہ اور آئندہ نسلوں کی عزت، ناموس ، وقار ، ترقی وخوشحالی اور روزگار کا دفاع ،قومی خومختاری، حقوق ، اختیار کیلئے اپنا کردار ادا ،پیسوں کے عوض سیاسی عمل کو خریدنے والوں ، بلوچستان کی تقدیر کا سودا لگانے والوں کو سماج سے بیدخل کریں، انہوںنے کہاکہ محسن نقوی کے ذریعے نئے انتظامی صوبوں کے قیام کا شوشا چھوڑا جارہاہے ،
جس طرح سندھ کے لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی قومی تاریخی سرزمین اور پانی کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے قومی وحدت بلوچستان کے لوگ بھی اعلان کرتے ہیں کہ ہم بھی اپنے قومی وطن تقسیم نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی اپنی سرزمین کی لوٹ مار پر خاموش بیٹھیں گے۔









