حکومت نے تینوں مطالبات تسلیم کیے، کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا اصولی طور پر ختم کیا گیا، ہنہ اوڑک عمائدین

24

ہنہ اوڑک کے قبائلی عمائدین نے کہا ہے کہ ہمارا دھرنا اصولوں کے مطابق تھا اور ہم نے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے تھے حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے اور کامیاب مذاکرات کے بعد اخلاقی طور پر ہمارا فرض بنتا تھا کہ ہم کوئٹہ کے عوام کو مزید مشکلات سے دوچار نہ کریں، اسی لیے ہم نے دھرنا ختم کردیاپریس کانفرنس کے دوران ہنہ اوڑک کے قبائلی عمائدین نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص لابی ہمارے خلاف منظم طریقے سے پروپیگنڈہ کر رہی ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ہنہ اوڑک کے عوام نے شہدا کی لاشیں اٹھائی ہیں، ہمارے عوام زخمی ہوئے ہیں، ہم کسی صورت اس قسم کے پروپیگنڈے کی اجازت دیں گے اور نہ ہی اس طرح کی کم ظرفی کا مظاہرہ کریں گے وقت آنے پر ان تمام غلط پروپیگنڈوں کا جواب دیا جائے گایہ بات مفتی رحمت اللہ، عجب خان کاکڑ، ملک نسیم کاکڑ، مولوی علی جان، ملک آصف کاکڑ اور شہدا کے لواحقین نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیانہوں نے کہا کہ اہلیان ہنہ اوڑک، شہدا کے پسماندگان، علاقے کے غیور اور امن پسند عوام کی جانب سے چند اہم اور سنجیدہ حقائق قوم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں گزشتہ دنوں 5 جولائی بروز اتوار کو ہنہ اوڑک کلی ببری پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔

اپنی عزت، ناموس، چادر اور چاردیواری کے تقدس کی حفاظت کرتے ہوئے ہمارے پانچ نوجوان نقیب اللہ، گلریز خان، محمد یونس، محمد اشرف اور محمد رفیق جام شہادت نوش کر گئے، جبکہ آٹھ نوجوان شدید زخمی ہوئے اور بارہ نوجوانوں کو اغوا کر لیا گیاانہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہمارا دھرنا مسلسل پانچ روز تک اصولوں کے مطابق جاری رہا۔ دھرنا مثالی طور پر پرامن اور تاریخی تھا۔

ہم اہلیان کوئٹہ، گردونواح کے عوام، تاجروں، قبائلی عمائدین، ڈاکٹروں، وکلا، علما کرام، قبائلی مشران، نوجوانوں، فلاحی تنظیموں، ہزارہ قوم، کرسچن برادری، بلوچ عوام، سیاسی جماعتوں کے سربراہان، سماجی تنظیموں اور میڈیا کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہر سطح پر ہمارا ساتھ دیا اور اس دکھ کو صرف ہنہ اوڑک کا نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان کا دکھ سمجھاانہوں نے بتایا کہ واقعہ کے بعد ہمارے تین بنیادی مطالبات تھے جن میں مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی، ہمارے علاقے کو امن و تحفظ فراہم کرنا اور علاقے کے پہاڑوں کو امن دشمن عناصر سے پاک کرنا، جو ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے، جبکہ تیسرا مطالبہ اپنے مطالبات کو بااختیار حکام کے سامنے پیش کرنا تھا حکومت نے ہمارے تینوں مطالبات تسلیم کییانہوں نے کہا کہ دھرنے میں سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے بھی ہمارے مطالبات کی حمایت کی، یقین دہانی کرائی اور جلسے کی ڈیمانڈ کی، جسے ہم نے پورا کرکے دکھایا۔

ہر آنے والے مہمان کو اپنی بساط کے مطابق پروٹوکول دیا۔ چونکہ ہمارے تینوں مطالبات تسلیم کیے گئے، اس لیے ہم نے متفقہ طور پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیاقبائلی عمائدین نے کہا کہ دھرنے کی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر چند مخصوص اور مفاد پرست عناصر نے شہدا کے لواحقین کی دل آزاری اور ہنہ اوڑک دھرنا کمیٹی کے خلاف گھٹیا مہم شروع کی، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور ایسے تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

ہمارا دھرنا اصولوں کے مطابق شروع ہوا اور اصولوں کے مطابق ہی ختم ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس مہم میں چند پشتون قوم پرست جماعتوں کے رہنما بھی ملوث ہیں، جنہیں انہوں نے پشتو زبان میں جواب دیاانہوں نے پوری قوم سے اپیل کی کہ شہدا کے احترام کو سیاست، افواہوں اور سوشل میڈیا کے بے بنیاد الزامات سے بالاتر رکھا جائے انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام انتقام نہیں بلکہ انصاف ہے، ہمارا راستہ نفرت نہیں بلکہ اتحاد ہے، ہمارا مقصد انتشار نہیں بلکہ امن ہے، اور ہمارا عزم ہے کہ اپنے شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ یاد رکھا جائے۔

ہمارے تمام مطالبات حق اور انصاف پر مبنی تھے انہوں نے زیارت کے شہدا کے لواحقین کی دھرنے میں عدم شرکت سے متعلق چلنے والی مہم پر بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ ہمارا پرامن دھرنا جاری ہے، آپ کسی اور مقام پر دھرنا دیں، ہم آپ کی مکمل حمایت کریں گے جس پر زیارت کے عوام نے کوئلہ پھاٹک پر دھرنا دیاپریس کانفرنس کے اختتام پر قبائلی عمائدین نے کہا کہ اس طرح کے بے بنیاد پروپیگنڈوں کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ وقت آنے پر ان کا بھرپور جواب بھی دیا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں