پی اے سی کا سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے آڈٹ اعتراضات اور تقرریوں کا جائزہ

25

بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی ) کا اجلاس اسمبلی کی کمیٹی روم میں چئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں رحمت صالح بلوچ، غلام دستگیر بادینی اور صفیہ بی بی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، وائس چانسلر سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر روبینہ مشتاق، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان حافظ نورالحق، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی سے متعلق آڈٹ اعتراضات، اخراجات، انتظامی امور پی اے سی کے احکامات کی تعمیل کے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی کے رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ تقرریوں اور ترقیوں میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے، یومیہ اجرت پر بھرتیوں میں مبینہ طور پر پسند و ناپسند کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات ہمارے بچوں کے مستقبل سے وابستہ ادارے ہیں، لہٰذا ان کی ساکھ اور شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ سرکاری فنڈز اور بجٹ کا استعمال قواعد و ضوابط اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہونا چاہیے اور کسی بھی صورت میں مالی اختیارات کا استعمال ذاتی صوابدید پر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ اور سینیٹ کے اجلاسوں کے منٹس میں بعد ازاں رد و بدل ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، جس کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر کسی فیصلے میں ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے اور قانون کے مطابق منٹس بنائی جائے اور اعلی حکام کے سامنے تمام نکات واضح کر کے مسل پیش کیے جائیں، محض منٹس میں تبدیلی قواعد کے مطابق نہیں۔ اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ بعض منٹس پر متعلقہ حکام، جن میں پرو وائس چانسلر اور محکمہ خزانہ کے نمائندہ شامل ہیں، کے دستخط موجود نہیں تھے، جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے کہا کہ یہ ایک آئینی فورم ہے اور تمام اقدامات قانون، قواعد اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہونے چاہئیں، ایس بی کے سمیت محکموں کی آسامیوں پر تقرریوں اور ترقیوں کے معاملات کی مکمل قانونی جانچ ضروری ہے۔کمیٹی کے رکن غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ کمیٹی تقرریوں یا ترقیوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہونے کی حامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ترقی میں بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو اس کا ازالہ ہونا چاہیے تاکہ ان ملازمین کے حقوق متاثر نہ ہوں جو برسوں سے اپنی ترقی کے منتظر ہیں۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ اسمبلی، آڈٹ، محکمہ قانون اور فنانس پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گئی جو رواں سال میں خلاف قانون تمام ترقیوں اور تقرریوں کا ازسرنو جائزہ لے گی اور اس امر کو یقینی بنائے گی کہ ہر اہل اور مستحق ملازم کو قانون، قواعد اور میرٹ کے مطابق اس کا حق دیا جائے اور متعلقہ کمیٹی اپنی رپورٹ یکم اگست تک پی اے سی کو پیش کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں