بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے مرکزی اور صوبائی رہنمائوں ڈاکٹر ناشنا س لہڑی، رشید بلوچ، الہی بخش بلوچ، ڈاکٹر عبید اللہ، ڈاکٹر یاسر نصیر، عبدالوکیل مینگل، فاروق ناشناس، ملک محمد صادق بنگلزئی و دیگر نے کہا ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر بلوچستان کے حقوق کے حصول اور دسترس کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی حکومت فوری طور پر اس سال الاٹ کی گئی مائنز کو منسوخ کرکے تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے صوبے کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی قانون سازی کو یقینی بنائیں جس میں بلوچستان کے حقوق کے حصول کا دفاع موجود ہوں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے زیر اہتمام جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مقررین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ سابق صوبائی وزیر رکن صوبائی اسمبلی راجی راہشون واجہ میر اسد اللہ بلوچ کے وژن پر عمل پیرا ہو کر عوام کی آسودگی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔
اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے معدنیات اور قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔ اس لئے 2025میںجو مائنز لیز الاٹمنٹ کی گئی انہیں فی الفور منسوخ کیاجائے۔مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) ایسی کسی ترمیم کو قبول نہیں کرتی جس میں بلوچستان کے عوام کے حقوق محفوظ نہ ہوںکیونکہ جس طرح عجلت میں پارلیمان سے مائنز منرلز ایکٹ منظور کرکے تمام اختیارات اور وسائل وفاق کو منتقل کئے گئے جس کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) اور دیگر جماعتوں نے اس پر شور مچایا جس پر حکومت ایک بار پھر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لیکر تمام جماعتوں اور پارلیمنٹ میں موجود اور باہر جماعتوں کے رہنمائوں کی مشاورت سے نئی قانون سا زی کا عندیہ دے چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت بلوچستان ک لوگوں کے حقوق کے حصول پر دسترس کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کے حوالے سے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی اور معاشرے کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو آگے آنا ہوگا خاص کر ادیب و دانشور، قلمکار، جرنلسٹ، وکلا سمیت سب کو اس حوالے سے اپنی تجاویز دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے اگر کوئی قانون بنتا ہے تو اس میں بلوچستان کے عوام کے حقوق سلب نہ ہوں۔
تقریب میں پیش کی جانے والی 8 قرار دادوں کو شرکاء نے منظور کرلیا۔ قرار دادوں میں کہا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025کا نفاذ 18ویں ترمیم ۔ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025آئین کے آرٹیکل 172کلاس 3کیخلاف ہے ۔استحصال ظلم و جبر نا انصافی نا منظور ۔بلوچستان میں جو بھی قومی دولت سرزمین کے سینے میں دفن ہیں ان پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2002کو بحال کیا جائے ۔
مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025کے بعد جو بھی لیز بلوچستان سے باہر کی کمپنیوں کو الاٹ کی گئی ہیں ان کو فوری پر طوری پر منسوخ کیا جائے۔مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے آنیو الے وقت میں بھی اگر کوئی ایکٹ بنتا ہے تو جس علاقے میں معدنیات نکلتی ہیں اس ضلع کے شیئر ہولڈرز سے ان کے تجاویز لے کر ایکٹ میں شامل کیا جائے۔جہاں کہیں صوبے سے باہر کی کمپنی کو کوئی لیز الاٹ کی جاتی ہے تو اس کمپنی میں مقامی لوگوں کو شیئرہولڈرز بنانا ضروری قرار دیا جائے تاکہ بلوچستان کے وسائل اور لوگوں کے حقوق کے حصول ممکن بنایا جاسکی









