پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ نے ضلع قلعہ عبداللہ کے کلی تنگ مسے زئی میں گزشتہ شب مسلح جتوں کے وحشیانہ حملے میں حنفیا کاکڑ اور ان کے فرزند ولی کاکڑ عرف ولو کی شہادت، نوجوان حیدر کاکڑ کو اغوا کرنے اور گاؤں کو مکمل طور پر لوٹنے کے انسانیت سوز واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پارٹی نے کہا ہے کہ نہتے اور بے گناہ شہریوں پر مسلح جتھوںکا بزدلانہ حملہ دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ ایسے درندہ صفت عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف فوری، فیصلہ کن اور عملی کارروائی ناگزیر ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کلی تنگ مسے زئی کے مکینوں نے ان دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور خطرات سے ضلعی انتظامیہ اور کمشنر کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا، لیکن حکومت اور متعلقہ اداروں نے عوام کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا۔
یہ مجرمانہ غفلت ناقابلِ معافی ہے۔ حکومت اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور اس ناکامی کی ذمہ داری سے کسی صورت بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ پارٹی نے کہا کہ شہدا کے لواحقین اور علاقے کے عوام اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ کوئٹہ چمن شاہراہ پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، لیکن حکومت کی بے حسی اور خاموشی تاحال برقرار ہے۔ عوام کے جان و مال کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا حکومتی ذمہ داریوں سے کھلی روگردانی ہے۔









