18 برس بعد سندھ میں ہونے والے 35ویں نیشنل گیمز کے لیے منظور شدہ بجٹ 52 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس پر اضافی فنڈز کی منظوری کے لیے اہم اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق نیشنل گیمز میں التوا اور رنگا رنگ تقریبات کے باعث اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر گیمز کا بجٹ 52 کروڑ روپے رکھا گیا تھا، تاہم ملتوی ہونے اور اضافی تقریبات کے انعقاد نے یہ بجٹ ناکافی بنا دیا ہے۔
سندھ کے وزیر کھیل سردار محمد خان بخش مہر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ، “ہم چاہتے ہیں کہ نیشنل گیمز کا انعقاد شایانِ شان انداز میں ہو۔ یہ سندھ کے وقار کا معاملہ ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی اس حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اضافی بجٹ کی منظوری جلد دے دی جائے گی۔
واضح رہے کہ 35ویں نیشنل گیمز رواں سال مئی 2025 میں منعقد ہونے تھے، لیکن کراچی میں شدید گرمی اور ممکنہ ہیٹ ویو کے خدشے کے باعث گیمز کو ملتوی کر دیا گیا تھا، جس کے باعث نہ صرف لاجسٹکس اور سیکیورٹی کے اخراجات بڑھے، بلکہ افتتاحی و اختتامی تقریبات کی ازسرنو تیاری بھی بجٹ پر بوجھ بن گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں اضافی بجٹ کی منظوری، اخراجات کی تفصیل اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔









