بلوچستان میں حالات سنگین ہیں بات چیت کے امکانات کم ہورہے ہیں، مولانا واسع

14

جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان مسئلہ اب اس نہج پر پہنچ چکاہے کہ جن نکات پر دس سال پہلے سنجیدہ قومی مکالمہ ممکن تھا، آج اْن پر گفتگو بھی مشکل ہو چکی ہے، اور جن امور پر آج بات کی جا سکتی ہے بعد شاید اْن پر بھی بات کرنا ممکن نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کی سنگینی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قومی مسئلے پر ہمیشہ سرد مہری، غیر سنجیدگی اور وقتی مفادات پر مبنی طرزِ عمل اختیار کیا گیا۔ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے ہر دور میں متعدد قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں، مگر ہر مرتبہ انہیں غیر سنجیدگی سے لیا گیا اور اصل مسئلے کے حل کے بجائے نت نئی تاویلات، مصنوعی بیانیے اور وقتی جواز تراشے جاتے رہے۔

جمعیت علمائے اسلام کی رائے میں صوبے کو مزید نت نئے تجربات کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے تمام سنجیدہ سیاسی قوتیں اور قومی قیادت سرجوڑ کر آئین اور عوامی امنگوں کے مطابق مستقل اور پائیدار سیاسی حل تلاش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ نظام کا تجربہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے اور اس ناکام تجربے کی بھاری قیمت عوام اور ملک دونوں نے سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، ادارہ جاتی کمزوری اور بڑھتی ہوئی بداعتمادی کی صورت میں ادا کی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات اور اس سے پیوستہ انتخابی عمل کے نام پر عوامی مینڈیٹ کا جس انداز میں مذاق بنایا گیا، آج بلوچستان میں پھیلی بے چینی، احساسِ محرومی، سیاسی بحران اور بدامنی اسی کے براہِ راست نتائج ہیں۔

بلوچستان آج جس آگ میں جل رہا ہے، وہ عوامی مینڈیٹ سے انحراف، سیاسی انجینئرنگ اور انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ اگر واقعی بلوچستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی چاہتی ہے تو اس کا واحد قابلِ عمل راستہ عوامی مینڈیٹ کی غیر مشروط بحالی، آزاد، شفاف اور غیر جانبدار دوبارہ انتخابات کا انعقاد اور عوام کے حقِ حکمرانی کا مکمل احترام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی غلطیوں اور ناکام پالیسیوں کا احتساب کرنے کے بجائے سیاسی قیادت کو نشانہ بنانا، ان کی کردار کشی کرنا اور انہیں قومی مسائل کا ذمہ دار قرار دینا نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ ریاستی استحکام کے لیے بھی انتہائی خطرناک رجحان ہے، کیونکہ یہی عناصر مختلف ادوار میں مختلف سیاسی قیادتوں کو متنازع بنانے، عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے اور پارلیمانی اداروں کو غیر مؤثر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں،

جسے جمعیت علمائے اسلام صرف سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ ملکی جمہوریت، آئین اور عوام کے حقِ حکمرانی کے خلاف ایک منظم اور مذموم سازش سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کم کرنے کا واحد راستہ اعتماد سازی ہے، اور اعتماد سازی کی پہلی، بنیادی اور ناگزیر شرط آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے ذریعے عوامی رائے اور مینڈیٹ کا مکمل احترام ہے۔ سیاسی سودے بازی، سیاسی انجینئرنگ اور مصنوعی اکثریتوں نے صوبے کو بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی اور عوامی اختیار پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے اور اس گمراہ کن مؤقف کی سختی سے نفی کی جائے کہ پارلیمان صوبائی مسائل حل کرنے سے قاصر ہے، حقیقت یہ ہے کہ حقیقی عوامی نمائندگی سے محروم رکھ کر انہی عناصر کے اس ناروا بیانیے کو تقویت دی گئی ہے جو پارلیمانی اداروں کو کمزور، غیر مؤثر اور عوام سے بے تعلق ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں