شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا دو روزہ سربراہ اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت رکن ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔
ایس ای او کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے کو افغانستان کی سکیورٹی، دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، تجارت اور توانائی کے مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
اجلاس کے پہلے روز سربراہان کی آمد اور مختلف دوطرفہ و کثیرالجہتی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ مرکزی اجلاس یکم ستمبر کو ہوگا۔
روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ پیوٹن کی بھارتی، ایرانی اور ترک قیادت کے ساتھ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں
اجلاس میں علاقائی سلامتی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کے معاملات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے بھی سکیورٹی، رابطوں اور معاشی مواقع کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز ہے۔
طالبان ایک بار پھر اجلاس سے باہر
اجلاس میں افغانستان کا معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے تاہم طالبان حکومت کو اس بار بھی سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ افغانستان کو 2012 سے ایس سی او میں مبصر کا درجہ حاصل ہے لیکن 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ تنظیم کے کسی سالانہ سربراہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
رکن ممالک خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ممالک ملک میں داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ ایس سی او وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی افغانستان کی صورتحال زیر بحث آئی تھی۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کو اپنے لیے سنگین سکیورٹی چیلنج قرار دیا تھا جبکہ ایران نے دہشت گردی سے پاک اور مستحکم افغانستان کی ضرورت پر زور دیا تھا۔









