بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں امن و امان یقینی بنانے اور دہشت گردی، انتہا پسندی و بدامنی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد، صوبے میں تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام اور قانون میں ضروری ترامیم کی قراردادیں منظور کرلی، جبکہ ایوان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر حکومت اور اپوزیشن اراکین نے تفصیلی بحث کرتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل اور ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔
پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس کے آغاز پر اسپیکر کے جوان سال بیٹے، پمز میں جاں بحق بچوں اور سیکیورٹی فورسز کے شہید جوانوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئرزمرک خان اچکزئی نے امن و امان کی صورتحال دہشت گردی، انتہا پسندی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرنے اور دہشت گرد عناصر و ان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کرنے سے متعلق قرار داد پیش کی۔
قرارداد پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میر یونس زہری نے کہا کہ مستونگ کو خالی کرانے اور کھڈکوچہ کے باغات ختم کرنے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا، جہاں دہشت گرد موجود ہیں وہاں کارروائی کی جائے اور عام لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔
رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ بجلی، گیس اور پانی سے بڑھ کر جینے کا حق مانگ رہے ہیں اور صوبے میں روزانہ نوجوان جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جگہ بٹھا کر امن و امان کے مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے۔رکن اسمبلی خیر جان بلوچ، زابد ریکی، فضل قادر مندوخیل اور سید ظفر آغا نے بھی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کیمرہ اجلاس بلانے اور ایوان میں حقائق پر مبنی بحث کے ذریعے لائحہ عمل طے کرنے کا مطالبہ کیا۔زابد ریکی نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے لیے اپنے علاقوں میں جانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ صوبے میں امن و امان پر بھاری وسائل خرچ ہونے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آرہی۔
انہوں نے روزگار کی فراہمی اور ناراض سیاسی جماعتوں سمیت تمام متعلقہ طبقات کو مذاکرات کے لیے ایک میز پر بٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات ماضی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور امن و امان کے مسئلے کے حل کے لیے ان کیمرہ اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ وزیر تعلیم راحیلہ درانی نے کہا کہ حکومت امن و امان کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کوئی نئی نہیں، ماضی میں بھی دہشت گردی کے بڑے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کو بے روزگاری سے جوڑنے کو درست قرار نہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وسیع علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے وسائل درکار ہیں۔
اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اراکین اسمبلی میرزابد ریکی اورمیر یونس زہری نے سوالات کے جوابات میں تاخیر اور متعلقہ وزرا کی غیرحاضری پر احتجاج کیا، جس پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دی کہ آئندہ محکموں سے متعلق سوالات کے جوابات ایک ہفتے کے اندر فراہم کیے جائیں۔جبکہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سے متعلق وقفہ سوالات متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی کے باعث موخر کردیئے گئے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں شراب خانے غیر مسلم کے لئے ہیں یہ شراب خانے قیام پاکستان سے پہلے ہیں،آپ سب کو معلوم ہے میں شراب نہیں پیتا ہوں اگر کسی شراب خانے سے نام کسی علاقے کے نام پر رکھا اسے ختم کرادیں گے۔
اجلاس میں پنجگور میں لواحقین کو ملازمت کے کوٹے پر عملدرآمد سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے پیش کیا، جسے صوبائی وزیر صحت کی یقین دہانی پر نمٹا دیا گیا۔صوبے میں ڈیموں اور نہروں سے متعلق رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں صوبائی وزیر آبپاشی نے بتایا کہ بلوچستان میں 886 ڈیم مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 223 ڈیم زیر تعمیر ہیں۔ یقین دہانی کے بعد توجہ دلاؤ نوٹس نمٹا دیا گیا۔ایوان نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیف ہومز کی تعمیر سے متعلق مسودہ قانون اور بلوچستان تولیدی صحت کی دیکھ بھال کے حقوق کے تحفظ و فروغ اور بلوچستان ایمپلائمنٹ آف چلڈرن سے متعلق قوانین بھی منظور کر لیے جبکہ کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 کے ترمیمی مسودہ قانون اور بلوچستان آبی وسائل کے انتظام و انصرام سے متعلق مسودہ قانون کو مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا۔۔
اجلاس میں بلوچستان میں تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام اور قانون میں ضروری ترامیم سے متعلق قرارداد بھی ایوان میں پیش کی گئی۔ قرارداد رکن اسمبلی شاہدہ روف نے ویمن پارلیمانی کاکس کی جانب سے پیش کی، جس میں ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی پر زور دیا گیا۔قرارداد پر بحث کے دوران بعض اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور متعدد اراکین ایک ساتھ بولنے لگے، تاہم بعد ازاں خواتین اراکین اسمبلی نے متاثرہ خاتون کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور صوبائی حکومت اس حوالے سے قانون جلد اسمبلی میں لائے گی۔ایوان نے تیزاب گردی سے متعلق قرارداد کو مشترکہ قرارداد قرار دے کر منظور کرلیا۔بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 3ستمبر تک ملتوی کردیا گیا۔









