بلوچستان اسمبلی میں محکمہ کھیل میں کلاس فور کی بھرتیوں پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے تحفظات

45

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ کھیل میں کلاس فور کی آسامیوں پر بھرتیوں کے حوالے سے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، جبکہ مشیر کھیل مینا مجید نے بھرتیوں میں میرٹ کی خلاف ورزی اور نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔

اجلاس کے دوران رکن اسمبلی اسفندیار کاکڑ نے کہا کہ محکمہ کھیل میں باہر کے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے اور بھرتیوں کے حوالے سے انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے عوام کو جواب دہ ہیں، لیکن کلاس فور کی بھرتیوں میں بھی انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور محکمہ کھیل میں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اپوزیشن رکن اسمبلی اصغر ترین نے کہا کہ ضلع پشین میں محکمہ کھیل کی بھرتیوں پر تحفظات ہیں اور بھرتیوں کے عمل میں شفافیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر، سیکرٹری اور کمیٹی کے ارکان کے لیے الگ الگ کوٹے رکھے گئے ہیں، جبکہ نوکریاں کمیٹی کے ارکان کی منشا کے مطابق دی جاتی ہیں اور بدنامی ارکان اسمبلی کے حصے میں آتی ہے۔

اصغر ترین نے مزید کہا کہ اسمبلی کے فلور پر ایک وزیر نے بھرتیوں کے حوالے سے اپنی ہی کابینہ کی ایک وزیر پر نوکریاں فروخت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کلاس فور کے ملازمین کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

اس موقع پر مشیر کھیل مینا مجید نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ الزام لگانا آسان ہے، تاہم ان کی غیر موجودگی میں ان پر الزامات عائد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نوکریاں فروخت کی گئی ہیں تو اس حوالے سے ثبوت فراہم کیے جائیں۔

مینا مجید نے کہا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں اور نوجوانوں کو ان کا حق دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی رکن اسمبلی کی مرضی کے مطابق نوکریاں نہیں دے سکتیں۔

رکن اسمبلی زرک مندوخیل نے کہا کہ محکمہ کھیل میں کلاس فور کی بھرتیوں کے حوالے سے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

اجلاس کے دوران اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) اتحادی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے اپنے ہی وزیراعلیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں