کوئٹہ میں پانی کی طلب و رسد میں نمایاں فرق، 167 ٹیوب ویلز غیر فعال، کمشنر کی بحالی کی ہدایت

19

کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں فراہمی آب، واسا کی کارکردگی اور انتظامی امور کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ ایم ڈی واسا مجیب الرحمن کاکڑ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں واسا کے 544 ٹیوب ویلز ہیں، جن میں 387 فعال جبکہ فنڈز کی کمی کے باعث 167 غیر فعال ہیں۔ شہریوں کی روزانہ پانی کی ضرورت تقریبا 60 ملین گیلن ہے جبکہ واسا 31 ملین گیلن پانی فراہم کر رہا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر میں 97 ہزار سے زائد گھریلو و کمرشل صارفین سے واسا کو سالانہ تقریبا 240 ملین روپے ریونیو حاصل ہوتا ہے، جبکہ ادارے کے اخراجات 4 ارب 64 ملین روپے سے زائد ہیں۔ دشت وال فیلڈ بند ہونے کے باعث سریاب کے بعض علاقوں میں بھی پانی کی فراہمی متاثر ہے۔کمشنر ذیشان لاشاری نے شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے، غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی اور دستیاب وسائل کے مثر استعمال کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے جامع تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے اخراجات میں کمی اور فراہمی آب کے نظام کو مثر و پائیدار بنانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں