کوئٹہ: جعفر ایکسپریس ٹرین کے قریب مبینہ خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 24 ہوگئی، 82 زخمی

36

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میںجعفر ایکسپریس ٹرین کے قریب مبینہ خودکش حملے میں کم سے کم 24افراد شہید جبکہ 82زخمی ہوگئے.

سیکورٹی فورسز اور ریسکیو حکام کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ کے کینٹ اسٹیشن سے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسرپریس ٹرین مسافروں کو لیکر کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کی جانب بڑھ رہی تھی کہ چمن پھاٹک کے مقام پر ایک خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی ٹرین سے ٹکر ا دی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا.

جس کی زد میں آکر ٹرین کی دو بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں اور جائے وقوعہ پر آگ بھڑک اٹھی ۔ حکام کے مطابق واقعہ میں ابتدائی طور پر 24افراد شہید جبکہ 82زخمی ہوگئے ۔

لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر اور سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا جہاں متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے ۔ حکام کے مطابق ٹرین میں زیادہ تعداد عید کی چھٹیاں منانے کے لیے جانے والے افراد کی تھی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔

واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز ،بم ڈسپوزل اسکواڈ سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شواہد اکھٹے کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خودکش تھا جسے ایک گاڑی میں موجود تقریبا 70کلو گرام بارودی مواد کے ذریعے کیا گیا ۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ سڑک پر کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی ،قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ اور ہر جانب تباہی کا منظر تھا ۔ حکام کے مطابق 9نومبر 2024کو ریلوے اسٹیشن پر دھماکے کے بعد سے کینٹ سے آنے والے مسافروں کے لیے ٹرین کوئٹہ کینٹ سے ہی روانہ کی جاتی تھی ۔ ریلوے حکام کے مطابق اتوار کو دھماکے کے بعد کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان کا چمن پھاٹک کے قریب دہشت گردی کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے ایک بیان میں کہا کہ معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں،

قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ اور افسوس ہے، دہشت گرد عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیںوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے اسپتالوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، تمام ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر ڈیوٹیوں پر طلب کرلیا گیاہے ۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں حملے میں ملوث عناصر قانون سے نہیں بچ سکتے زخمیوں کو فوری طبی امداد اور بہترین علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں