کردستان سے امریکی فوج کے انخلا کی تیاری مکمل، تاریخ بھی سامنے آ گئی

37

عراق کے کردستان ریجن سے امریکی فوجی دستوں کے انخلا کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں جبکہ امریکی زیر قیادت بین الاقوامی فوجی اتحاد کے اہم اڈے عراقی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔

عراقی حکومت کے مطابق امریکا اور بغداد کے درمیان 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت کردستان ریجن سے فوجی انخلا اور فوجی اڈوں کی منتقلی کا عمل 30 ستمبر تک مکمل کیا جائے گا۔

حکومت کے ترجمان حیدر العبودی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ رابطہ جاری ہے اور مختلف مقامات کا ریکارڈ تیار کرکے انہیں متعلقہ عراقی فورسز کے حوالے کرنے کا کام جاری ہے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق یہ عمل منظم انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور 30 ستمبر تک یہ تنصیبات عراقی سکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کرنے کے لیے اعلیٰ عسکری سطح پر منصوبہ بندی جاری ہے جبکہ دونوں جانب کی رابطہ ٹیمیں باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

کردستان کے مقامی حکام نے حالیہ دنوں میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی کی نشاندہی بھی کی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں اربیل میں امریکی فوجی قافلوں اور سامان کی منتقلی دیکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد امریکی فوج کے انخلا میں تیزی کے امکانات ظاہر کیے گئے۔

عراقی حکومت کی جانب سے یہ پہلا باضابطہ بیان ہے جس میں کردستان ریجن سے امریکی زیر قیادت اتحاد کے انخلا کے عمل کے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن کے مطابق آگے بڑھنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے فوجی اہلکار عراق سے روانہ ہوں گے اور کتنے فوجی اڈے عراقی فورسز کے حوالے کیے جائیں گے۔

امریکی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے 2014 سے عراق اور کردستان ریجن میں داعش کے خلاف عراقی فورسز کی معاونت کی ہے اور شام میں کارروائیوں کے لیے بھی ان مقامات کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

2017 میں داعش کی علاقائی شکست کے بعد بغداد نے اتحادی مشن کو جنگی کردار سے نکال کر مشاورتی، انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون تک محدود کرنے پر زور دیا۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا بلکہ فضائی دفاع، انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ سکیورٹی تعاون جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں