مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں وفاقی وزراء کا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ہمراہ نیشنل پارٹی کی قیادت سے حمایت حاصل کرنے کیلئے تربت پہنچ گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی خصوصی طیارے کے ذریعے رات گئے تربت پہنچے، جہاں ان کے ہمراہ وفاقی وزراء طارق فضل چوہدری، رانا ثناء اللہ، نیشنل پارٹی کے ایم این اے پھلین بلوچ، پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل و سابق سینیٹر کبیر محمد شہی، ایم پی ایز خیر جان بلوچ اور رحمت صالح بلوچ سمیت اعلیٰ حکومتی وفد موجود تھا۔
تربت آمد پر ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے وزیراعلیٰ اور وفد کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وفد نے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں 27ویں آئینی ترمیم بل پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور نیشنل پارٹی سے ترمیم کی حمایت کی درخواست کی گئی۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، بلوچستان کے آئینی اختیارات، اور صوبائی حقوق سے متعلق معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “وفد نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے نہایت خوشگوار ماحول میں بات چیت کی، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات اور اس کے ممکنہ اثرات پر کھل کر گفتگو ہوئی۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی وزراء و وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی یہ ملاقات بلوچستان کی بڑی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کو اعتماد میں لینے کی ایک اہم سیاسی کوشش ہے، جس کا مقصد آئینی ترمیم کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔









