پمز واقعہ: وزیراعظم نے سیکرٹری صحت کو عہدے سے کیوں ہٹایا؟ وجہ سامنے آگئی

17

ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کے شعبہ اطفال کے آئی سی یو میں آتشزدگی اور نتیجتاً 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد وفاقی سیکرٹری صحت کو اس مبینہ ناکامی کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا کہ انہوں نے وزیراعظم کی اسلام آباد کے اسپتالوں (بالخصوص پمز) کے معائنے کی بار بار دی جانے والی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

ذریعے کے مطابق، وزیراعظم نے ایک سے زیادہ مرتبہ سیکرٹری صحت کو ہدایت کی تھی کہ وہ خود اسپتالوں کا دورہ کریں اور موقع پر صورتحال کا جائزہ لیں، جس میں علاج معالجے کا معیار، سہولیات اور مریضوں کیلئے مجموعی انتظامات شامل تھے۔

ذریعے کا کہنا تھا کہ وفاقی سیکرٹری صحت کو خصوصی طور پر جدید ترین آلات اور الیکٹرو میڈیکل آلات کی فراہمی یقینی بنانے کو کہا گیا تھا۔ تاہم سیکرٹری مطلوبہ دورے نہیں کر سکے۔

ذریعے کے مطابق، وزیراعظم نے پمز کے سانحے سے 4 روز قبل بھی سیکرٹری کو یہی ہدایت جاری کی تھی، لیکن دورہ نہ ہو سکا۔ آئی سی یو میں آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر سیکرٹری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ تاہم، فوری کارروائی کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ سانحے کی ذمہ داری کا مکمل تعین کر لیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں