پاکستان کی بلیو اکانومی میں 100 ارب ڈالر کی صلاحیت ، 99 نکاتی روڈ میپ میں سے 85 پر عملدرآمد مکمل

23

پاکستان کے سمندر تقریباً 100 ارب ڈالر کی بلیو اکانومی کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم کئی دہائیوں تک اس قومی اثاثے سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ پاکستان کا بیشتر کارگو غیر ملکی شپنگ کمپنیاں لے جاتی رہیں، بندرگاہوں کی صفائی اور کھدائی بھی بیرونی کمپنیوں سے کرائی جاتی رہی جبکہ پاکستان کے بحری بیڑے کی تعمیر بھی بیرون ملک ہوتی رہی۔

اس صورتحال کے نتیجے میں ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ قومی کارگو میں پاکستان کی اپنی شپنگ صنعت کا حصہ صرف 11 فیصد تک محدود رہا۔ یہ صورتحال محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری کے لیے ایک اسٹریٹیجک خطرہ بھی بن گئی تھی۔

اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے 24 دسمبر 2024 کو 99 نکاتی روڈ میپ متعارف کرایا گیا، جس کی بنیاد پورٹس، لاجسٹکس، شپنگ، جہاز سازی اور ماہی گیری کے شعبوں پر رکھی گئی۔ حکام کے مطابق روڈ میپ کے 99 میں سے 85 نکات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

اس روڈ میپ کا مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل پورٹس ماسٹر پلان تیار کیا گیا، یکساں پورٹ ٹیرف نافذ کیا گیا، کراچی پورٹ سے تجاوزات ختم کی گئیں جبکہ جدید کارگو مینجمنٹ سسٹم متعارف کرائے گئے تاکہ بندرگاہوں کی استعداد اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔

کارگو کلیئرنس کا وقت 53 سے کم ہو کر 18 گھنٹے

فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ اور پاکستان سنگل ونڈو سسٹم کے ذریعے کارگو کلیئرنس کا وقت 53 گھنٹوں سے کم ہو کر 18 گھنٹے رہ گیا ہے۔ کسٹمز، بینکوں اور پورٹ آپریٹرز کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے سے کاروباری اور تجارتی عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز، شفاف اور آسان بنا دیا گیا ہے۔

کراچی شپ یارڈ میں تجارتی کنٹینر جہاز کی تعمیر

1980 کے بعد پہلی مرتبہ کراچی شپ یارڈ میں تجارتی کنٹینر جہاز کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ اس جہاز کی قیمت بھی مارکیٹ کے مقابلے میں کئی ملین ڈالر کم بتائی جاتی ہے۔

نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) بھی شپنگ کے شعبے میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ 8 سال بعد پاکستان کی شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری دوبارہ فعال ہو گئی ہے۔

ماہی گیری اور آبی زراعت

ماہی گیری اور آبی زراعت کے فروغ کے لیے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا اور ساحلی آبادیوں کی آمدن بہتر بنانا ہے۔

بندرگاہوں کی ڈریجنگ میں خودکفالت کی جانب پیش رفت

نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (NDMS)، این ایل سی، پورٹ قاسم اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس کے قیام سے پاکستان پہلی مرتبہ بندرگاہوں کی دیکھ بھال، صفائی اور کھدائی کے معاملے میں بیرونی انحصار سے نکل کر خودکفالت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اسی طرح سنگل پوائنٹ مورنگ (SPM) منصوبہ توانائی کی سپلائی چین کو مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ ڈی پی ورلڈ کے تعاون سے قائم ڈیڈی کیٹڈ فریٹ کوریڈور کراچی پورٹ پر کارگو کی نقل و حرکت کو مزید مؤثر بنا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں