پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، وزیراعظم نے تحقیقات کیلیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جس نے کام شروع کردیا، جبکہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ بھی سامنے آگئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد کے پمز اسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے نرسری کو لپیٹ میں لیا جبکہ زیر علاج بچوں میں سے صرف ایک ہی بچ سکا۔
حادثے کے بعد اسپتال کے باہر قیامت خیز مناظر دیکھنے میں آئے جبکہ بچوں کی لاشوں کو منتقل کردیا گیا جس کے بعد ڈی این اے کر کے انہیں والدین کے سپرد کیا جائے گا۔
تحقیقاتی کمیٹی قائم ، اراکین کا پمز کا دورہ
پمز اسپتال میں پیش آنے والے دلخراش واقعے پر وزیر اعظم کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی جو 5 ممبران پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی میں سابق سیکرٹری شاہد خان کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی واقعے کی وجوہات، ٹائم لائن کا تعین، آتشزدگی کے بعد اسپتال عملہ ،فائربرگیڈ،ریسکیو1122اور دیگر اداروں کی ہنگامی صورتحال اور آپریشن کا جائزہ لے گی۔
ضابطہ کار کے مطابق کمیٹی بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ایس او پیز کا جائزہ لے گی اس کے علاوہ کمیٹی فائر سیفٹی ڈھانچہ،حفاظتی ضوابط اور عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
ضابطہ کار کے مطابق کمیٹی کسی افسر یا اہلکار کی غفلت یا ذمہ داری کا تعین کرے گی جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے ضروری سفارشات مرتب کرے گی۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی کی جانب سے وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ 48 گھنٹوں میں پیش کی جائے گی جبکہ حتمی رپورٹ ذمہ داروں کے تعین کے ساتھ بعد میں پیش کی جائے گی۔
وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نے کام شروع کردیا
وزیراعظم کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے سربراہ سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان پمز اپستال پہنچ گئے جبکہ ڈپٹی کمشنر عرفان میمن بھی اُن کے ہمراہ ہیں۔ شاہد خان جائے وقوعہ کا دورہ کیا جہاں ڈی سی اسلام آباد نےبریفنگ دی۔









