پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں 8 اگست 2016 کے سانحہ کوئٹہ کے شہدا، بالخصوص شہید وکلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 8 اگست صوبے کی تاریخ کا ایک ایسا المناک اور سیاہ دن ہے جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس روز کوئٹہ سول ہسپتال میں دہشت گردی کے بدترین واقعے کے نتیجے میں صوبے کی وکلا برادری کے درجنوں قابل، نوجوان اور روشن خیال وکلا سمیت متعدد بے گناہ شہری شہید ہوئے۔
پارٹی نے کہا کہ 8 اگست کا سانحہ محض وکلا کو نشانہ بنانے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ آئین، قانون، انصاف، عدلیہ، جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں پر ایک سنگین حملہ تھا۔ اس سانحے میں صوبے کے وکلا کی ایک پوری نسل کو ہم سے چھین لیا گیا، جس کا نقصان آج بھی صوبے کی عدالتی اور قانونی برادری محسوس کر رہی ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا ھے کہ تمام شہدائے 8 اگست کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔
شہدا کے لواحقین گزشتہ ایک دہائی سے انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ قوم آج بھی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے اصل منصوبہ ساز، سہولت کار اور ذمہ دار عناصر آخر کب قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔ پارٹی نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ سانحہ 8 اگست کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے، جس میں ریاستی اداروں کی کارکردگی، سکیورٹی انتظامات اور دہشت گردی کے سدباب کے حوالے سے اہم نکات اور سفارشات پیش کی گئی تھیں۔
اس رپورٹ کو محض سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا کر رکھ دینا شہدا کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی رپورٹ کو عملی بنیادوں پر نافذ کیا جائے، اس کی تمام سفارشات پر مثر اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عوام کو آگاہ کیا جائے کہ ان سفارشات پر گزشتہ دس برس کے دوران کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
پارٹی نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف دہشت گردی کے کسی واقعے کے بعد مذمت، تعزیت اور بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنجیدہ ہے۔ اگر کسی ادارے کی غفلت، نااہلی یا کوتاہی کسی بڑے سانحے کا سبب بنتی ہے تو اس کے اسباب کا تعین بھی ضروری ہے اور ذمہ داروں کا احتساب بھی ناگزیر ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سانحہ 8 اگست کے اصل منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر مکمل اور مثر عملدرآمد کیا جائے۔ کمیشن کی رپورٹ پر اب تک ہونے والی پیش رفت کو عوام اور شہدا کے لواحقین کے سامنے لایا جائے۔ شہدا کے لواحقین اور سانحے میں زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں۔
صوبے میں دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے شفاف، جامع اور مثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ شہریوں، وکلا، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور دیگر طبقات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ ریاستی اداروں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ پارٹی نے کہا کہ شہدائے 8 اگست کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کے خون کو انصاف فراہم کیا جائے، ان کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں کسی شہری کو اپنے بنیادی حقوق، جان اور آزادی کے تحفظ کے لیے قربانی نہ دینا پڑے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہدائے 8 اگست سمیت دہشت گردی کے تمام شہدا کی قربانیوں کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، جمہوری نظام، انسانی حقوق اور پائیدار امن کے لیے اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی شہدائے 8 اگست کو سرخ سلام پیش کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ شہدا کے خون کو انصاف فراہم کیا جائے۔









